صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 376
صحيح البخاری جلده ۳۷۶ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير بَاب ١٥٩ : الْفَتْكُ بِأَهْلِ الْحَرْبِ لڑنے والوں پر چھاپہ مارنا ٣٠٣٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۰۳۲: عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے ، عمرو نے حضرت جابر ( بن عبد اللہ انصاری) سے، حضرت جابر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَقَالَ مُحَمَّدُ آپ نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا ؟ محمد ابْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ نَعَمْ بن مسلمہ نے کہا: آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو مار قَالَ فَأْذَنْ لِي فَأَقُوْلَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ ۔ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو کیا اطرافه: ٢٥١٠، 3031، 4037۔ پھر مجھے اجازت ہے کہ میں کوئی بات بناؤں؟ آپ نے فرمایا: میری طرف سے اجازت ہے۔ بَاب ١٦٠ : مَا يَجُوْزُ مِنَ الاحْتِيَالِ وَالْحَذَرِ مَعَ مَنْ يَخْشَى مَعَرَّتَهُ جس کے شر سے ڈر ہو اس کے متعلق تدبیر کرنا اور احتیاط کرنا جائز ہے ٣٠٣٣ : قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ٣٠٣٣ : لیٹ نے کہا عقیل نے مجھے بتایا۔ انہوں عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہے ، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قِبَلَ اُبی بن کعب کو ساتھ لے کر ابن صیاد کی طرف روانہ ابْنِ صَيَّادٍ فَحُدِّثَ بِهِ فِي نَخْلٍ فَلَمَّا ہوئے ۔ آپ کو بتایا گیا کہ وہ نخلستان میں ہے۔ جب دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں اس کے پاس وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ پہنچے تو آپ کھجوروں کی آڑ لیتے ہوئے احتیاط سے چلنے النَّخْلِ وَابْنُ صَيَّادٍ فِي قَطِيفَةٍ لَّهُ فِيْهَا لگے اور ابن صیاد اپنی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ اس