صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 375
صحیح البخاری جلده ۳۷۵ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ۔ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لڑائی ایک داؤ فریب ہے۔ باب ١٥٨ : الْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ لڑائی میں جھوٹ بولنا ۳۰۳۱: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۰۳۱: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہے ، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ روایت کی کہ بی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اس کے مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اشرف سے کون بنے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس - رسول کی ایذاء دہی میں حد کر دی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے اللهَ وَرَسُوْلَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے مار عليه أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ والوں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ کعب قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا يَعْنِي النَّبِيَّ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اس شخص نے یعنی نبی یا اے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَنَّانَا وَسَأَلَنَا نے نہیں جان جوکھوں میں ڈال دیا ہے اور ہم سے الصَّدَقَةَ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَكَّنَّهُ قَالَ صدقہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ کعب نے کہا: بخدا ابھی تو اور فَإِنَّا اتَّبَعْنَاهُ فَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ بھی مصیبت اُٹھاؤ گے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: ہم اب إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ اِس کے پیچھے لگ چکے ہیں، اس لئے ہم بری بات سمجھتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دیں جب تک کہ دیکھ نہ لیں کہ يُكَلِّمُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنَ مِنْهُ فَقَتَلَهُ۔ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے تھے کہ مسلمہ اس سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ اس کو اپنے قابو میں کر لیا اور پھر اس کو مار ڈالا۔ اطرافه ٢٥١٠، 303٢، 4037۔