صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 19 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 19

صحيح البخاری جلده 19 ۵۳ - کتاب الصلح حَدَّثَهُمْ أَنَّ الرُّبَيْعَ وَهِيَ ابْنَةُ النَّضْرِ حضرت انسؓ نے اُن سے بیان کیا کہ ربیع نے جو نضر کی انس كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوْا الْأَرْشَ بیٹی تھیں ایک لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔( لڑکی والوں نے) وَطَلَبُوْا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى دِيت مانگی اور (ربیع کے لوگوں نے ) معافی مانگی۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ انہوں نے نہ مانا۔وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔آپ نے اُن سے فرمایا: قصاص لیں۔حضرت انس بن فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ أَتَكْسَرُ ثَنِيَّةُ نصر (جو حضرت انس بن مالک کے چاتھے ) نے کہا: الرُّبَيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ یا رسول اللہ ! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں۔بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ يَا أَنَسُ اُس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ مبعوث کیا ، ایسا تو نہیں ہوگا۔آپ نے فرمایا: انس! وَعَفَوْا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللہ کا حکم یہی ہے کہ قصاص لیا جائے۔پھر وہ لوگ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ (لڑکی والے ) راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے قسم کھائیں تو وہ اُن کی قسم کو ضرور سچا کر دیتا ہے۔عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ۔زَادَ الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مروان بن معاویہ ) فزاری نے حمید سے، حمید نے حضرت فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ۔انس سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ بیان کیا۔پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے دیت قبول کرلی۔اطرافه: ۲۸۰٦، ٤٤۹۹، ٤٥۰۰، ٤٦١١، ١٦٨٩٤ تشریح : اَلصُّلْحُ فِى الدِّيَةِ : یہ بتایا جا چکا ہے کہ حدود میں قصاص ضروری ہے۔لیکن اگر فریقین دبیت پر صلح کر لیں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔قاضی کے لئے اجازت نہیں کہ وہ قصاص میں مداخلت کرے۔کیونکہ یہ قصاص لینے والے کی مرضی پر ہے۔اس تعلق میں کتاب التفسیر، سورۃ المائدة باب ۶ روایت نمبر ۴۶۱ اور کتاب الديات باب ۱۹ روایت نمبر ۶۸۹۴ بھی دیکھئے۔فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوا : یعنی دانت کا بدلہ دانت معاف کیا گیا اور دبیت قبول کی گئی اور دونوں خاندانوں میں صلح ہو گئی۔حضرت انس بن نضر ہے حضرت انس بن مالک کے چچا تھے۔غزوہ اُحد میں شہید ہوئے۔اسی (۸۰) سے کچھ اوپر انہیں تلوار، نیزے اور تیروں کے زخم لگے تھے (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۸۱) اور وہ اُن عباداللہ میں سے تھے جن کے