صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 19
صحيح البخاری جلده ۱۹ ۵۳ - كتاب الصلح حَدَّثَهُمْ أَنَّ الرُّبَيعَ وَهِيَ ابْنَةُ النَّضْرِ حضرت انس نے اُن سے بیان کیا کہ ربیع نے جو نضر کی كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا الْأَرْشَ بھی تھیں ایک لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ ( لڑکی والوں نے) وَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى دِیت مانگی اور (ربیع کے لوگوں نے ) معافی مانگی۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ انہوں نے نہ مانا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ۔ آپ نے ان سے فرمایا : قصاص لیں۔ حضرت انس بن فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ أَتَكْسَرُ ثَنِيَّةُ نظر جو حضرت انس بن مالک کے چاتھے) نے کہا: ۔ الرُّبَيعِ يَا رَسُولَ اللهِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ يا رسول اللہ ! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؛ نہیں۔ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ يَا أَنَسُ اُس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ مبعوث کیا ، ایسا تو نہیں ہوگا۔ آپ نے فرمایا: انس! وَعَفَوْا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللہ کا حکم یہی ہے کہ قصاص لیا جائے۔ پھر وہ لوگ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ (لڑکی والے) راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ۔ کر دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے قسم کھائیں تو وہ اُن کی قسم کو ضرور سچا کر دیتا ہے۔ زَادَ الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ (مروان بن معاویہ ) فزاری نے حمید سے حمید نے حضرت فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ۔ انس سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ بیان کیا۔ پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔ اطرافه: ٢٨٠٦، ٤٤٩٩، 4500، 4611، 6894۔ تشریح : الصُّلْحُ فِي الدِّية : یہ تایا جاچکا ہے کہ حدود میں قصاص ضروری ہے لیکن اگر فریقین دیت پر سے کر لیں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ قاضی کے لئے اجازت نہیں کہ وہ قصاص میں مداخلت کرے۔ کیونکہ یہ قصاص لینے والے کی مرضی پر ہے۔ اس تعلق میں کتاب التفسير سورة المائدة باب ۶ روایت نمبر ۴۶۱۱ اور کتاب الديات باب ۱۹ روایت نمبر ۶۸۹۴ بھی دیکھئے۔ فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا : یعنی دانت کا بدلہ دانت معاف کیا گیا اور دیت قبول کی گئی اور دونوں خاندانوں میں صلح ہوگئی۔ حضرت رت انس بن نضر ، حضرت انس بن مالک کے چچا تھے۔ غزوہ اُحد میں شہید ہوئے ۔ اسی (۸۰) سے کچھ اوپر انہیں تلوار، نیزے اور تیروں کے زخم لگے تھے (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۸۱) اور وہ اُن عباداللہ میں سے تھے جن کے