صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 370 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 370

صحیح البخاری جلده ٣٧٠ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۳۰۲۳: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۰۲۳: عبداللہ بن محمد نے مجھے بتایا۔ یحی بن آدم حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی بن ابی زائدہ نے ہمیں ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابوالحق سے، ابوالحق نے حضرت براء بن عازب قَالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ صلى الله علیہ وسلم نے کچھ انصاری لوگوں کو ابو رافع کی فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيْكِ بَيْتَهُ طرف بھیجا تو ا تو عبد الله بن عتیک رات کو اس کے گھر لَيْلًا فَقَتَلَهُ وَهُوَ نَائِمٌ۔ میں داخل ہوئے اور اس کو جبکہ وہ سویا ہوا تھا مار ڈالا۔ اطرافه: ۳۰۲۲، ٤۰۳۸، ٤٠٣٩، 4040۔ تشریح: ان ابواب کا موضوع انتقام سے متعلق ہے کہ کونسا انتقام جائز ہے اور کونسا نا جائز۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان کفار کی قید میں ہو تو کیا وہ قید کرنے والوں سے دھوکا فریب کر کے ان سے چھٹکارا پانے کی تدبیر کر سکتا ہے یا نہیں۔ امام بخاری نے عنوانِ باب ۱۵۱ استفہامیہ رکھ کر جواب حذف کر دیا ہے اور حضرت مسور کی روایت مذکورہ كتاب الشروط باب ۱۵ کا حوالہ دیا ہے۔ جس سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ اگر مسلمان قیدی کو اس کے قید کرنے والے امن میں رکھیں اور وہ قابل اعتماد لوگ ہوں تو ان سے دعا فریب جائز نہیں۔ امام مالک نے ان سے بھاگنا بھی نا جائز قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ اور طبری کی رائے ہے کہ اگر مسلم قیدی سے کوئی عہد لیا گیا ہو، مثلا وہ فرار نہیں کرے گا۔ چونکہ ایسا عہد جبر و اکراہ کے تحت ہے اس لئے وہ باطل ہے اور پورا کرنا لازمی نہیں ۔ شوافع کے نزدیک مسلم قیدی کا جس ہے۔ طرح بھی ہو قید و بند سے مخلصی حاصل کرنا جائز ہے مگر قید کرنے والوں کا مال لینا جائز نہیں کہ وہ امانت کے خلاف ۔ اشہب اور فقہاء میں سے ایک فریق کی رائے ہے کہ مسلم قیدی کا آزادی حاصل کرنا جائز ہے خواہ قید کرنے والے کو قتل کرکے ہی کیوں نہ ہو اور اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ ان کا مال لے جائے اور ان کا گھر بار جلا دے۔ ان فقہاء کے فتوے کا تعلق حالت جنگ اور حربی کفار سے ہے جو دشمن دین و مال و جان ہیں۔ صلح حدیبیہ کی شرائط کا تعلق ابو جندل کے ساتھ نہ تھا اور ان کا کفار سے معاہدہ نہ تھا۔ اس لئے موقع پاکر ان کا بھاگ جانا درست تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کا برا نہیں منایا۔ فتوی کی یہ صورت حالت صلح سے متعلق نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک محض اختلاف مذهب یا از راه شرارت و اشتعال انگیزی اگر کوئی گالیاں دے تو اس بناء پر کسی کا قتل جائز نہیں۔ اس کے خلاف تعزیری کارروائی بذریعہ دار القضاء یا عدالت کی جاسکتی ہے۔ امام ابن حجر نے