صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 371
صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صراحت کی ہے کہ کعب بن اشرف حربی ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ قواعد حرب کے مطابق سلوک کیا گیا۔امام ابو حنیفہ کے فتویٰ کا تعلق عام حالات امن سے ہے۔مفصل دیکھئے فتح الباری شرح کتاب المغازی، باب قتل كعب بن الأشرف غرض یہ فقہی اختلاف ہے۔جس کی وجہ سے باب ۱۵۱ بصورت استفتاء قائم کر کے روایت نمبر ۲۷۱۳ کا حوالہ دے دیا ہے۔واقعہ مندرجہ سے مخالف یا موافق فتوی مستنبط نہیں ہوتا۔البتہ باب ۱۵۲ کی روایت ۳۰۱۸ سے استنباط کیا جاسکتا ہے کہ ظالم سے انتقام بالمثل لیا جا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ امام وقت کی اجازت ہو۔باب ۱۵۳ بطور فصل ہے اور روایت نمبر ۳۰۱۹ کا تعلق ایک اسرائیلی واقعہ سے ہے۔تو رات کی شریعت کی رو سے دشمن کے گھر بار جلانا وغیرہ جائز قرار دیا گیا تھا۔(دیکھئے استثناء باب ۷، آیات ۲۰ تا ۲۵ نیز ۲- سموئیل باب ۱۲ آیت ۳۱) اور یہ اس وجہ سے تھا کہ بیت المقدس کے باشندے وحشی، خونخوار کو ہستانی قبائل سے گھرے ہوئے تھے۔وقت کی ضرورت کا تقاضا تھا کہ ان کی حالت کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔مگر اسلام نے مغلوب دشمن سے نرمی برتنے کا حکم دیا ہے اور سختی برتنے کی اجازت نہیں دی۔(دیکھئے باب ۱۴۳ نیز باب ۱۶۶) ہاں امام وقت مجاز ہے کہ استثنائی حالات میں کسی خاص امر کا فیصلہ کرے۔(روایت نمبر ۳۰۱۸) حضرت صعب بن جثامہ کی روایت میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ امام کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی سختی جائز نہ تھی۔یہی مفہوم ہے لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ کا۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۰۱۲) اسرائیلی واقعہ مندرجہ باب ۱۵۳ سے موسوی شریعت کے احکام کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ابو رافع یہ یہودی ان مجرموں میں سے تھا جنہوں نے عہد و پیمان توڑے۔اسلام کے خلاف فتنہ کی آگ بھڑ کائی۔میثاق (معاہدہ مدنی) کی رو سے وہ قابل سزا تھا۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب قتل ابی رافع۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیتے وقت ارشاد فرمایا تھا کہ اس کے اہل بیت سے تعرض نہ کیا جائے یا چنانچہ اسے آواز دی گئی تا کہ کوئی دوسرا غلطی سے نہ مارا جائے اور بولنے پر وہ پہچانا گیا اور مارا گیا۔یہ واقعہ بھی استثنائی صورت رکھتا ہے اور اس میں امام وقت کے حکم یا اجازت کا دخل ہے۔خلاصہ ابواب یہ ہے کہ فتح وغلبہ کے وقت قیدیوں سے نیک سلوک ہو۔تاوان لے کر یا بغیر تاوان لئے انہیں آزاد کیا جائے۔ان کی عورتوں اور بچوں سے تعرض نہ کیا جائے۔کسی فرد پرسختی نہ ہو۔امام وقت یا حکومت ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور ظلم و ستم کی روک تھام کرنے کے لئے بطور نمونہ عبرت سخت کارروائی کے مجاز ہیں۔جیسا کہ ریل وشگل خشم کے بت خانے، قبیلہ بنونضیر، ابورافع اور کعب بن اشرف سے کی گئی۔یہ تمام ابواب بلحاظ نفس مضمون ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور قیدیوں اور دوسرے امور سے متعلق شریعت اسلامی کے احکام کی وضاحت کرتے ہیں۔مؤطا امام مالک، کتاب الجهاد، باب النهي عن قتل النساء والولدان في الغزو)