صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 369 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 369

صحيح البخاری جلده - ٣٦٩ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَدَخَلْتُ وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِضْنِ لَيْلًا بند کر دیا اور چابیاں ایک طاق میں رکھ دیں۔میں دیکھ فَوَضَعُوْا الْمَفَاتِيْحَ فِي كَوَّةٍ حَيْثُ رہا تھا۔جب وہ سو گئے تو میں نے وہ چابیاں لیں اور أَرَاهَا فَلَمَّا نَامُوْا أَخَذْتُ الْمَفَاتِيحَ قلع کا دروازہ کھولا۔پھر ابورافع کی طرف گیا۔میں نے فَفَتَحْتُ بَابَ الْحِضْنِ ثُمَّ دَخَلْتُ اسے آواز دی۔ابورافع نے اس کا جواب دیا۔میں عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ فَأَجَابَنِي اس کی آواز پر گیا اور اس پر وار کیا۔وہ چلایا۔میں باہر گیا اور پھر آیا جیسے میں اس کی مدد کے لئے پہنچا ہوں۔فَتَعَمَّدْتُ الصَّوْتَ فَضَرَبْتُهُ فَصَاحَ میں نے کہا: ابورافع اور میں نے اپنی آواز بدل لی۔فَخَرَجْتُ ثُمَّ جِئْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ كَأَنِّي وہ بولا : تمہاری ماں پر مصیبت آئے تم کہاں تھے؟ میں مُغِيْتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں نہیں جانتا کون صَوْتِي فَقَالَ مَا لَكَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ میرے پاس آیا اور اس نے مجھ پر وار کیا۔اس نے کہا: قُلْتُ مَا شَأْنُكَ قَالَ لَا أَدْرِي مَنْ دَخَلَ بین کر میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور پھر عَلَيَّ فَضَرَبَنِي فَقَالَ فَوَضَعْتُ سَيْفِي جھک کر بوجھ ڈالا تو وہ ہڈی سے جاٹکرائی۔اس کے بعد فِي بَطْنِهِ ثُمَّ تَحَامَلْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَرَعَ میں وہاں سے نکلا اور میں سراسیمہ تھا۔جب ان کی الْعَظْمَ ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَنَا دَهِشَ فَأَتَيْتُ سیڑھی سے اترنے لگا تو میں گر پڑا۔میرے پاؤں میں سُلَّمًا لَّهُمْ لِأَنْزِلَ مِنْهُ فَوَقَعْتُ فَوُلِتَتْ موچ آگئی۔میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: رِجْلِي فَخَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ موت کی خبر مَا أَنَا بِبَارِحٍ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ فَمَا دینے والے کی آواز نہ سن لوں۔چنانچہ میں وہاں سے نہ گیا جب تک کہ ابورافع تاجر اہل حجاز کی موت کی خبر بَرِحْتُ حَتَّى سَمِعْتُ نَعَايَا أَبِي رَافِعِ دینے والیوں کی آواز نہ سن لی۔وہ (صحابی ) کہتے تھے: تَاجِرِ أَهْلِ الْحِجَازِ قَالَ فَقُمْتُ وَمَا بِي قَلَبَةٌ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ۔اطرافه: ۳۰۲۳، 4۰۳۸، 4039، 4040۔میں یہ خبر سن کر اُٹھا اور مجھے درد کی تکلیف نہ رہی اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے سب واقعہ بیان کیا۔