صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 367
صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَالَ لِى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ) نے مجھ سے کہا کہ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيْحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ رسول الله ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا ذوالخلصہ سے وَكَانَ بَيْتًا فِي خَنْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ مجھے چھٹکارا نہیں دلاؤ گے اور یہ خشم قبیلے میں ایک الْيَمَانِيَةَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِيْنَ بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانی کہا کرتے تھے۔حضرت وَمِائَةِ فَارِسِ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوْا جریر کہتے تھے۔میں اس قبیلہ کے ایک سو پچاس سوار لے کر روانہ ہو گیا اور یہ لوگ سواری میں ماہر تھے۔أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ کہتے تھے: میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اتنے {حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي زورسے) ہاتھ مارا { کہ آپ کی انگلیوں کے نشان میں صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ نے اپنے سینے پر دیکھے ہم اور آپ نے فرمایا: اے اللہ ! هَادِيًا مَهْدِيَّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا اسے گھوڑے پر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہنما اور وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ راست روبنا۔چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی وہاں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ چلے گئے اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور جلا دیا۔اس کے بعد رَسُوْلُ جَرِيْرٍ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک شخص ( ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ نامی ) کو بھیجا کہ آپ جئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ کو خبر دے۔حضرت جریر کے ایلچی نے کہا: اسی ذات أَجْوَفُ أَوْ أَجْرَبُ قَالَ فَبَارَكَ فِي کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے {خَيْلِ} أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک ذوالخلصہ کو ایسا جلا بھنا نہیں چھوڑا جیسے کوئی کھوکھل اونٹ یا خارشی مَرَّاتٍ۔اونٹ ہوتا ہے۔حضرت جریر کہتے تھے: آپ نے احمس کے 3 گھوڑوں اہم اور ان کے سواروں کے لئے پانچ بار فرمایا: اللہ انہیں برکت دے۔اطرافه ٣٠٣٦، ٣٠٧٦ ۳۸۲۳، ٤٣٥٥ ٤٣٥٦ ٦٣٣٣،٦٠٨٩- یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۱۸۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔