صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 367 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 367

صحيح البخاری جلده ۱۳۹۷ قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے حضرت جریر ( بن رت ۵۶ - كتاب الجهاد والسير جریر ( بن عبداللہ بجلی ) نے مجھ سے کہا کہ عليسة۔ کیا ذوالخلصہ سے وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ رسول اللہ اللہ نے مجھ سے فرمایا: کیا ذوالی وَكَانَ بَيْتًا فِي خَنْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ مجھے چھٹکارا نہیں دلاؤ گے اور یہ شعم قبیلے میں ایک الْيَمَانِيَةَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِيْنَ بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانی کہا کرتے تھے۔ حضرت وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوْا جی کہتے تھے: تھے: میں احمس قبیلہ کے ایک سو پچاس سوار لے کر روانہ ہو گیا اور یہ لوگ سواری میں ماہر تھے۔ أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ کہتے تھے: میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اتنے حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي زور سے ہاتھ مارا کہ آپ کی انگلیوں کے نشان میں صَدْرِي } وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ نے اپنے سینے پر دیکھے اور آپ نے فرمایا: اے اللہ ! هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا اسے گھوڑے پر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہنما اور وہاں محارم وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ راست روبنا۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبد اللہ بھٹی و صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ چلے گئے اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور جلا دیا۔ اس کے بعد رَسُوْلُ جَرِيرٍ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک شخص ( ابو ارطاة حصین بن ربیعہ نامی ) کو بھیجا کہ آپ جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ کو خبر بر دے۔ حضرت جریر کے ایلچی نے کہا: اسی : : اس ذات أَجْوَفُ أَوْ أَجْرَبُ قَالَ فَبَارَكَ فِي کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے {خَيْلِ } أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک ذوالخلصہ کو ایسا مَرَّاتٍ ۔ جلا بھنا نہیں چھوڑا جیسے کوئی کھوکھل اونٹ یا خارشی اونٹ ہوتا ہے۔ حضرت جریر کہتے تھے: آپ نے احمس کے گھوڑوں اور ان کے سواروں کے لئے پانچ بار فرمایا: اللہ انہیں برکت دے۔ اطرافه ٣٠٣٦، ۳۰٧٦، ۳۸۲۳، ٤٣٥٥ ٤٣٥٦، 6089، 6333۔ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۱۸۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔