صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 366
صحيح البخاری جلده ۳۶۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْأَرْضِ فَسَادًا۔کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے اور ان سے لڑائی کی اور ملک میں فساد کیا۔(اس لئے ان کو یہ سزا دی گئی۔) اطرافه ۲۳۳، ۱۵۰۱، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٢، ۶۸۹۹ ،۶۸۰۵ ،۶۸۰٦٨٠٣، ٤ باب ١٥٣ ۳۰۱۹: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۳۰۱۹ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بن مسیب سے اور ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے کسی نبی کو ایک نملہ نے کاٹ کھایا * تو اس نبی نے نملہ کی بستی کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دی گئی تو اللہ نے انہیں فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ وَحی کی کہ ایک نملہ نے تجھے کا ٹا تھا، تو نے ایک قوم کو أَحْرَقْتَ أُمَّةٌ مِّنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ الله۔جلا دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی۔وَسَلَّمَ يَقُوْلُ قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ طرفه ۳۳۱۹ باب ١٥٤ : حَرْقُ الدُّوْرِ وَالنَّخِيْل گھروں اور کھجوروں کو جلانا ۳۰۲۰: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۰۲۰ مرد نے ہم سے بیان کیا کہ یکجی (قطان) يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔اسماعیل سے روایت کی کہ انہوں نے قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ کہا: قیس بن ابی حازم نے مجھ سے بیان کیا۔کہتے نملة ایک قوم تھی جو وادی نمل میں قدیم الایام سے آباد تھی۔یہ علاقہ اب تک وادی النمل کے نام سے مشہور ہے۔لفظ قرص کا استعمال از قبیل لفظی اور معنوی تجانس ہے۔اس کے معنی علاوہ نیش زنی کے منافرت پیدا کرنے کے بھی ہیں۔(لسان العرب- قرص)