صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 364 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 364

صحيح البخارى جلده Fyr ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دوسری آیت کا مضمون سلبی ہے کہ یہ امر تمہارے مقاصد عالیہ کے خلاف ہے کہ لوگ تمہاری قید میں رہیں۔بعثت نبوی کی غرض و غایت اسیروں کی رستگاری ہے۔فرماتا ہے : مَا كَانَ لِنَبِي أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ، لَوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمُ فِيْمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (الأنفال: ۶۹،۶۸) یعنی کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ قیدی بنائے جب تک کہ وہ ملک میں خونریزی نہ کر لے۔(اگر تم بغیر با قاعدہ جنگ کے قیدی پکڑ تو) تم دنیوی اموال کے طالب قرار پاؤ گے۔حالانکہ اللہ تمہارے لئے آخرت کی نعمتیں چاہتا ہے۔اللہ بڑا غالب (اور) بڑی حکمتوں والا ہے۔(اور ) اگر اللہ کی طرف سے ایک حکم صریح پہلے سے نہ گزر چکا ہوتا تو جو کچھ تم نے (قیدیوں کا) فدیہ لیا تھا اس کی وجہ سے تم کو بڑا عذاب پہنچتا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) آیت مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ دشمن کے حملہ کرنے پر اگر کسی نبی کو مجبوراً جنگ کرنی پڑے تو اس صورت میں فتح پانے پر لڑنے والے قیدی بنائے جاسکتے ہیں۔بغیر اس کے کسی کو قید کرنا جائز نہیں۔اس آیت میں مخلہ کی مہم کی طرف اشارہ ہے اور اس دستہ ہر اول کی غلطی پر ناراضگی کا اظہار ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جحش اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور ایک تجارتی قافلہ پر حملہ کر دیا اور اس کے سردار عمرو بن الحضر می کو قتل کر دیا۔قافلہ لوٹ لیا اور دو قیدی مدینہ لے آئے۔جس پر مذکورہ بالا آیت میں ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور آئندہ کے لئے اس سے روک دیا گیا۔امام بخاری نے اسیران جنگ کے موضوع کی مناسبت کی بناء پر دونوں حوالوں سے اسلام کی تعلیم کے ایجابی و سلبی پہلوؤں کو واضح کیا ہے۔باب ۱۴۶،۱۴۵ قیدیوں کے تعلق میں ضمنی ہیں۔باب ۱۴۷ تا ۱۴۹ میں آگ سے جلانے ، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔روایت نمبر ۳۰۱۷ میں حضرت علی کے بعض لوگوں کو جلوانے کا جو واقعہ نقل کیا گیا ہے وہ بقول حضرت عمار رضی اللہ عنہ نیم جان مقتولین ( زنادقہ ) کو ایک گڑھے میں اکٹھے کر کے دھوئیں کے ذریعہ ختم کر دینے کا واقعہ ہے نہ انہیں جلوانے کا۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۱۸۲) اس بارہ میں روایات مختلف ہیں۔اس تعلق میں اور مسئلہ قتل مرتدین کے لئے مفصل دیکھئے کتاب استتابة المرتدین۔باب ١٥١ هَلْ لِلْأَسِيْرِ أَنْ يَقْتُلَ أَوْ يَخْدَعَ الَّذِيْنَ أَسَرُوْهُ حَتَّى يَنْجُوَ مِنَ الْكَفَرَةِ کیا جنگی قیدی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ قتل کرے یا ان لوگوں کو دھوکا دے جنہوں نے اسے قید کیا ہے تا وہ حلقہ کفر سے نجات پائے فِيْهِ الْمِسْوَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس کے متعلق منور نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔روایت کی۔