صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 363 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 363

صحيح البخارى جلده ٣٦٣ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ۔نبی ﷺ نے فرمایا ہے: جو اپنے دین کو تبدیل کرے طرفه: ٦٩٢٢۔( اور محاربین میں شامل ہو جائے تو اسے قتل کر دو۔بَاب ١٥٠ : فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (محمد: ٥) ( سورہ محمد میں جو فرمایا : یا تو قیدی بنانے کے بعد ان پر احسان کرنا ہوگا یا جزیہ لے کر آزاد کرنا ہوگا فِيْهِ حَدِيثُ ثُمَامَةَ، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: اس کے متعلق تمامہ کی حدیث مروی ہے۔اور اللہ مَا كَانَ لِنَبِيّ اَنْ يَكُونَ لَه عزوجل کا یہ فرمانا: نبی کے یہ شایان نہیں کہ وہ قیدی أَسْرَى حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ بنائے جب تک وہ خونریزی نہ کرے۔(اگر تم بغیر حَتَّى يَغْلِبَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ باقاعدہ جنگ کے قیدی پکڑ لو تو ) تم دنیوی اموال عَرَضَ الدُّنْيَا (الأنفال: ٦٨) الآية کے طالب قرار پاؤ گے۔تشریح:۔فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً : امام بخاری نے باب ۱۴۳ ۱۴۳ ۱۴۴ اکٹھے کر کے قیدیوں سے حسن سلوک کی غرض و غایت واضح کی ہے۔چنانچہ اس تعلق میں باب ۱۵۰ میں قرآن مجید کی دو آیتوں کی طرف اشارہ ط قف کر کے قیدیوں کے بارہ میں اسلامی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا ہے۔پہلی آیت یہ ہے: فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرّقَابِ حَتَّى إِذَا الْخَبْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَا نَتَصَرَ مِنْهُمْ وَلكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ، وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ لَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمُ ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمُ ه (محمد) (۶۵) پس ( چاہیے کہ ) جب تم کافروں سے میدانِ جنگ میں ملو تو گردنیں کا ٹو۔یہاں تک کہ جب تم ان کا خون بہا لو تو خوب زور سے مشکیں کسو۔پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے ( ان کو چھوڑ دو) یا تاوان جنگ لے کر ( چھوڑ دو۔) یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے ( یعنی ختم ہو جائے ) یہ سب کچھ حالات کے ماتحت ہوا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا۔لیکن اس نے چاہا کہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائے جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے گئے اللہ ان کے اعمال کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔وہ ان کو ضرور کامیابی کی طرف لے جائے گا اور ان کی حالت کو درست کرے گا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) یہ حکم اثبات کی صورت رکھتا ہے کہ اسیران جنگ کو بغیر تاوان جنگ لئے بطور احسان یا تاوان لے کر آزاد کر دو۔یہ نہ خیال کرو کہ تم نے مظالم کا انتظام نہیں لیا یا تمہارے شہیدوں کا خون رائیگاں گیا۔اس امرکو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو۔یہ ایک امتحان کا موقع ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے کر اس امتحان میں اس کی خوشنودی حاصل کرو۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ بدر اور غزوہ ہوازن کے قیدی آزاد فرمائے بعض سے تاوان لے کر اور بعض بے تاوان لئے۔