صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 361 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 361

صحيح البخاری جلده - ۳۶۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حوالہ آیت کے علاوہ ایک اور مشہور حدیث کا حوالہ بھی ضمنا دیا گیا ہے جس کے راوی حضرت صعب بن جامہ ہیں اور وہ حدیث یہ ہے : لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ۔بعد کے ابواب میں اس حمایت اور پناہ کا صریح ذکر ہے جو عورتوں اور بچوں کو بحالت جنگ دی گئی ہے۔اسماعیلی نے زہری کی یہی روایت نقل کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ابن کعب بن مالک کی سند سے ان کے چچا کی روایت بھی نقل کرتے تھے جس کے یہ الفاظ ہیں : لَمَّا بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصّبْيَانِ۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی الحقیق یہودی سردار کی طرف بعض آدمی بھیجے تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ابوداؤد سے بھی یہی روایت ایک اور سند سے نقل کی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۷۸) امام ابن حجر نے اس تبصرے کے بعد امام مالک و امام اوزاعی کا مذ ہب اس بارے میں نقل کیا ہے کہ کسی حالت میں بھی عورتوں اور بچوں کا قتل جائز نہیں۔حَتَّى لَوْ تَتَرَّسَ أَهْلُ الْحَرْبِ بِالنِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ أَوْ تَحَصَّلُوا بِحِصْنٍ أَوْ سَفِينَةٍ وَجَعَلُوْا مَعَهُمُ النِّسَاءَ وَالبَيَانَ لَمْ يَجُزُ رَمُهُهُمْ یعنی عورتیں اور بچے اس وقت بھی تیروں کا نشانہ نہ بنائے جائیں جب محاربین ان کو اپنے سامنے بطور پناہ کے کھڑا کر لیں یا ان کے ساتھ قلعے یا کشتی میں ہوں۔اس کے علاوہ انہوں نے ابن حبان کی یہی حضرت صعب والی حدیث نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ثُمَّ نَهَى عَنْهُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ا یعنی آپ نے غزوہ حنین میں عورتوں اور بچوں پر حملہ کرنے سے روک دیا۔غزوہ حنین سے متعلق رباح بن ربیع کی حدیث میں یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حضرت خالد بن ولید کی طرف بھیجا کہ ان سے کہو : لَا تَقْتُلْ ذُرِّيَّةً ولَا عَسِيفًا یہ یعنی بچوں اور خدمت گاروں کو قتل نہ کریں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۱۷۹) غزوہ حنین اور فتح مکہ کا ایک ہی زمانہ ہے اور روایت نمبر ۳۰۱۴ میں جس مقتول عورت کو دیکھنے کا ذکر ہے اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے۔اسے مقتول دیکھ کر آپ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے روک دیا۔حتی کہ غزوہ خیبر میں بکری کے زہر آلودہ گوشت کا ہدیہ بھیجنے والی عورت کو صحابہ نے قتل کرنا چاہا تو آپ نے انہیں روک دیا۔(دیکھئے کتاب المغازی باب ۴۱: الشاة التي سمت للنبي ) روایت نمبر ۳۰۱۲ سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی موقعہ جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ رات کو حملہ کرنے کی ضرورت پیش آئے اور محار بین مع اہل و عیال ہوں تو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر رات کو لڑائی ہو جائے اور اہل وعیال کو نقصان پہنچے فَهُم مِنهُم تو وہ بھی چونکہ محاربین میں سے ہیں اس لئے اس نقصان کی ذمہ داری انہی پر ہے جنہوں نے لڑائی چھیڑ کر اپنے آپ کو خطرے میں ڈالا۔ایسے لوگوں کا مقابلہ نہ کرنا اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنا تھا۔صحابہ کرام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا بتا تا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت کا علم تو انہیں تھا لیکن چونکہ اس معین واقعہ میں رات کے وقت پوری احتیاط نہیں ہو سکتی تھی اس لئے دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔(صحیح ابن حبان كتاب السير، باب الخروج وكيفية الجهاد) (سنن ابی داود، كتاب الجهاد، باب في قتل النساء) مذکورہ بالا الفاظ فتح الباری کے ہیں۔صلى الله