صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 360 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 360

صحيح البخاری جلده ۶۰ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير باب ١٤٨ : قَتْلُ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ جنگ میں عورتوں کے قتل کے بارے میں ارشاد : ٣٠١٥ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱:۳۰۱۵ ۳۰۱۵: الحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ میں نے ابواسامہ (حماد بن اسامہ ) سے پوچھا: کیا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عبید اللہ نے تمہیں یہ حدیث نافع سے روایت کرتے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُجِدَتْ امْرَأَةٌ ہوئے بتائی کہ (حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہا مَقْتُوْلَةٌ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُوْلِ اللهِ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُوْلُ اللهِ علیہ وسلم کی جنگوں میں سے کسی جنگ میں ایک عورت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَالصَّبْيَانِ ۔ طرفه: ٣٠١٤۔ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ تشريح : أَهْلُ الدَّارِ يُبَيِّتُونَ فَيُصَابُ الْوِلْدَانُ وَالدَّرَارِيُّ: شب خون کے تعلق میں جو باب ۱۳۶ قائم کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے۔ اس کی دو روایتیں ہیں جو حضرت صعب بن جثامہ سے مروی ہیں ۔ امام بخاری نے اس کی دوسری سندیں نقل کر کے بتایا ہے کہ یہ روایت قابل غور ہے۔ زہری کی روایت جو عبید اللہ سے مروی ہے اس میں حضرت ابن عباس کی روایت کے الفاظ هُم مِنْهُمُ ہیں نہ کہ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ - باب کے عنوان میں بیانا کی تشریح لفظ ليلا (یعنی نِيَامًا) سے کی گئی ہے تاکہ يُبَيِّتُونَ کے مفہوم کی وضاحت ہو جائے کہ شب خون سے مراد ایسی حالت میں چھاپہ مارنا ہے جب اہل خانہ سوئے ہوئے ہوں ۔ پہلی آیت جس کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمُ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمُ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ) (الأعراف: ۹۹،۹۸) کیا یہ بستیوں والے الہی عذاب سے امن میں ہیں کہ وہ رات کو آجائے جبکہ وہ سو رہے ہوں یا دو پہر کو آجائے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ۔ نسخہ ابوذر کے علاوہ صحیح بخاری کے اور نسخوں میں قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے : قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّنَهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيْهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصْدِقُونَ ) (النمل: ۵۰) انہوں نے کہا: تم سب اس پر اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم اس کے اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے۔ پھر جو بھی اس کے خون کا مطالبہ کرنے آئے گا ہم اس سے کہیں گے کہ ہم نے اس کے اہل کی ہلاکت ( کے واقعہ ) کو نہیں دیکھا اور ہم سچے ہیں۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر) اس آیت سے ظاہر ہے کہ یہ کام مصلحین کا نہیں بلکہ مفسدین کا ہے۔ مذکورہ بالا