صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 18 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 18

صحيح البخاری جلده IA ۵۳ - كتاب الصلح مَسْعُوْدٍ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ بن سہل اور مختیصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف چلے صُلْحٌ۔اطرافه: ۳۱۷۳ ، ٦١٤۳، ۶۸۹۸، ۷۱۹۲۔گئے اور (اہل خیبر سے ) اُن دنوں صلح کی ہوئی تھی۔تشريح : الصُّلْحُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ: ما معنونہ کے تعل میں زیر عنوان چھ والے نقل کئے گئے ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مشرکین سے مصالحت کی گئی اور اُن سے نیک سلوک روا رکھا گیا؛ من حیث القوم بھی اور من حیث الافراد بھی۔پہلا حوالہ ابو سفیان صخر بن حرب کا ہے۔اس کے لیے کتاب بدء الوحی روایت نمبرے دیکھئے۔اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد و پیمان پورا کرنے کا ذکر ہے۔دوسرا حوالہ عوف بن مالک الاشجعی کا ہے جو کتاب الجزیه باب ۱۵ روایت نمبر ۳۱۷۶ میں مذکور ہے کہ رومیوں کے ساتھ تمہاری جنگ ہوگی اور فتح کے بعد اُن کے ساتھ صلح ہوگی۔تیسرا حوالہ سہل بن حنیف انصاری کا ہے جو کتاب الجزیہ باب ۷ اروایت نمبر ۳۱۸ میں منقول ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط طے ہونے پر مجھے خواہش ہوئی کہ کاش مجھے قدرت حاصل ہو تو میں اس صلح نامہ کورڈ کر دوں اور مظلوم ابو جندال کو قریش مکہ کے پاس واپس نہ جانے دوں، مگر میں بے بس تھا۔چوتھا حوالہ حضرت اسماء بنت ابی بکر کا ہے جو کتاب الهبة باب ۲۹ روایت نمبر ۲۶۲۰ میں گزر چکا ہے کہ اُن کی والدہ صلح حدیبیہ کے بعد اُن سے ملنے آئیں اور آنحضرت ﷺ نے اُن کو اپنی والدہ سے اچھے برتاؤ کے لئے ارشاد فرمایا۔پانچواں حوالہ حضرت مسور بن مخرمہ کا ہے جو کتاب الشروط بابا میں منقول ہے اور صلح حدیبیہ ہی سے اس کا تعلق ہے۔چھٹا حوالہ بصورت روایت جو عنوان باب پر معطوف ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات اور احادیث مندرجہ زیر باب سے جاہل طبقہ کے تعصب کا ازالہ مقصود ہے جو غیر قوموں سے عدم رواداری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس تعلق میں کتاب الشروط باب ۱۵،۱ بھی دیکھئے۔اس باب کی آخری روایت کا تعلق دیت سے ہے۔ابو حشمہ کا نام عامر بن ساعدہ ہے۔قبیلہ بنوحارثہ میں سے تھے۔عبد اللہ بن سبل حارثی اور مختصہ بن مسعود بن زید حارثی انصار مدینہ میں سے تھے۔جزیہ وصول کرنے کی غرض سے یہ دونوں خیبر گئے اور وہاں اول الذکر قتل کر دیئے گئے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت خود ادا فرمائی تفصیل کے لئے كتاب الجزية روایت نمبر ۳۱۷۳ دیکھئے۔بَاب : الصُّلْحُ فِي الدِّيَةِ دیت پر صلح کرنا ۲۷۰۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۲۷۰۳ محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہم سے بیان الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّ أَنَسًا کیا۔انہوں نے کہا: حمید (طویل) نے مجھے بتایا۔