صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 358
صحيح البخاری جلده ۳۵۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَهْوَنَ اُٹھانے کے بغیر سنائی ہے۔بحالیکہ آدمی معمولی سی مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ۔بات کے لئے مدینہ تک سفر کیا کرتا تھا۔اطرافه ٩٧، ٢٥٤٤، ٢٥٤٧، ٢٥٥١، ٣٤٤٦ ٠٥٠٨٣ بَاب ١٤٦ : أَهْلُ الدَّارِ يُبَيِّتُونَ فَيُصَابُ الْوِلْدَانُ وَالدَّرَارِيُّ (جن مشرکوں سے لڑائی ہے اگر ان کے گھر والوں پر رات کو چھاپہ مارا جائے اور اس کے نتیجہ میں بچوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچے بَيَاتًا (الأعراف: ۹۸) لَيْلًا۔( یہ جو فرمایا ہے: أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمُ لَنُبَيْتَنَهُ (النمل: ٥٠) لَيْلًا۔بَأْسُنَا بَيَاتًا اس میں ) بیاتا کے معنی ہیں رات کو بَيَّتَ (النساء: ٨٢) لَيْلًا۔اور یہ جو فرمایا: تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيَّتَهُ وَأَهْلَهُ اس میں لبینہ کے معنی ہیں ہم ضرور اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات کو چھاپہ ماریں گے۔اسی طرح بيت کے معنی ہیں رات گزاری۔۳۰۱۲: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۳۰۱۲ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔نے حضرت ابن عباس سے، حضرت ابن عباس نے انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ ) سے عبید اللہ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ الصَّعْبِ ابْن جَنَّامَةَ جَنَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ مَرَّ حضرت صحب بن جشامہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ میں میرے پاس سے گزرے۔آپ سے پوچھا گیا کہ الدَّارِ يُبَيِّتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ فَيُصَابُ جن مشرکوں سے لڑائی ہے اگر ان کے گھر والوں پر شب خون مارا جائے اور اس کے نتیجہ میں ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں تو اس بارہ میں حضور کا کیا خیال مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِتِهِمْ قَالَ هُمْ مِنْهُمْ وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی تو قوم کا حصہ ہی ہیں اور وَلِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا: کوئی رکھ نہیں مگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔