صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 357 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 357

صحيح البخاری جلده ۳۵۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ابراہیم حربی نے آپ کے اس رویا کی تعبیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قید سے ظاہری قید مراد نہیں بلکہ یہ استعارہ و مجاز ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۷۶) (عمدۃ القاری جزی۴ صفحه ۲۵۸) عَجِبَ اللهُ مِنْ قَوْمِ: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے خوش ہوگا۔روایت نمبر ۲۸۲۶ میں بھی ایسا ہی محاورہ گذر چکا ہے۔باب ١٤٥ : فَضْلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ یہود و نصاریٰ میں سے جو اسلام میں داخل ہوں ان کی فضیلت ۳٠١١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳٠١١: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔صالح بن حي ابوحسن نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے شعمی سے سنا۔کہتے تھے کہ ابْنُ حَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ سَمِعْتُ ابو بردہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے باپ الشَّعْبِيَّ يَقُوْلُ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ أَنَّهُ (حضرت ابو موسیٰ اشعری ) سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ سَمِعَ أَبَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ تین شخص ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔مَرَّتَيْنِ الرَّجُلُ تَكُوْنُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُعَلِّمُهَا ایک وہ شخص جس کی ایک لونڈی ہو اور وہ اس کو تعلیم دے اور نہایت عمدہ تعلیم دے اور اس کو آداب كَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ فَيُحْسِنُ تَعْلِيْمَهَا وَيُؤَدِّبُهَا فَيُحْسِنُ سکھائے اور بہترین آداب سکھائے۔پھر اس کے تَأْدِيبَهَا ثُمَّ يُعْتِقُهَا } فَيَتَزَوَّجُهَا فَلَهُ بعد وہ اس کو آزاد کر دے اور اس سے نکاح کرلے۔أَجْرَانِ وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي ایسے شخص کو دو ثواب ملیں گے اور اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے پیغمبر پر ) ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے۔اس کو بھی دو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ الَّذِي ثواب ملیں گے اور وہ غلام جو اللہ کا حق بجالائے اور يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيّدِهِ، ثُمَّ اپنے آقا کی خیر خواہی کرتا رہے۔یہ حدیث بیان قَالَ الشَّعْبِيُّ وَأَعْطَيْتُكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ کر کے شعمی نے کہا: میں نے تم کو یہ تمہارے مشقت یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۱۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔