صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 356
صحيح البخاری جلده ۳۵۶ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير باب ١٤٤ : الْأَسَارَى فِي السَّلَاسِلِ قیدی زنجیروں میں ٣٠١٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۰۱۰ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ ہمیں خبر دی ) کہا :) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ محمد بن زیاد سے، ابن زیاد نے حضرت ابو ہریرہ رضی عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر فِي السَّلَاسِلِ۔ طرفه: ٤٥٥٧ تعجب کرے گا جو جنت میں زنجیروں سے جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔ یہ ابواب قیدیوں سے نیک سلوک کے بارے میں ہیں۔ اسلامی جنگ کا اصل مقصد ظلم و جور اور فتنہ و فساد کا کی چیرہ دستی اور بے راہ روی کی روک تھام اور اصلاح احوال ہے۔ یہ ہے۔ یہ مقصد جبروا کراہ کے وسائل سے حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ اخلاق فاضلہ اور نیک تلقین سے انجام پاتا ہے۔ ایک قیدی شخص کی قلبی کیفیات نیک تحریکات قبول کرنے کیلئے مستعد ہوتی ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے حضرت علی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی کہ خیبر فتح ہونے کے بعد جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور دعوت حق کا طریق اختیار کیا جائے۔ (روایت نمبر ۳۰۰۹) الْأَسَارَى فِي السَّلَامِلِ : زنجیروں میں جکڑ کر جنت میں داخل ہونے کے معنے یہ ہیں کہ ظالم لوگوں کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جو بہتوں کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔ یہی اصل مقصد ہے اسلامی جنگوں کا کہ امن کی فضا پیدا ہو کر لوگوں کو آزادی سے سوچنے سمجھنے کا موقع ملے۔ قیدیوں سے سلوک کے تعلق میں باب نمبر ۱۴۴ کا عنوان نا تمام جملہ سے قائم کر کے بتایا گیا ہے کہ جنگی قیدی کو پابہ زنجیر رکھنا ضروری نہیں۔ بلکہ اس سے مراد ان موافق و مناسب خیالات کا پیدا کرنا تھا جو عرب و عجم کی ہدایت کا موجب ہوئے۔ طیبی نے واقعات کی بناء پر روایت نمبر ۱۰ ۳۰۱۰ کا یہی مفہوم واضح کیا ہے اور اس تعلق میں امام ابن حجر نے ابوطفیل کی مرفوع روایت کا حوالہ بھی دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَأَيْتُ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يُسَاقُوْنَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ كُرْهًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ قَالَ قُوْمٌ مِنَ الْعَجَمِ يَسْبِيْهِمُ الْمُهَاجِرُونَ فَيُدْخِلُوْنَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ مُكْرِهِينَ - یعنی میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ زنجیروں میں ہیں اور وہ جنت میں داخل کئے جارہے ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ عجمی ہیں جنہیں مہاجرین قید کریں گے اور انہیں جنت میں داخل کریں گے جبکہ وہ اس سے قبل جنت میں داخل