صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 355
صحیح البخاری جلده ۳۵۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلٌ کہا: حضرت سہل بن سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ قَالَ نے مجھے بتایا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ میں فرمایا: کل میں ایسے شخص کو پرچم دوں گا جس کے لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ اللهُ ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ خیبر فتح کروائے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ لوگ رات بھر عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُوْلُهُ فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ اس خیال میں رہے کہ ان میں سے کس کو جھنڈا دیا يُعْطَى فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوْهُ فَقَالَ أَيْنَ جائے گا۔ صبح آئے، ہر ایک کو یہی آرزو تھی کہ پرچم عَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَبَصَقَ فِي اسے دیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا: علی کہاں ہیں؟ عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ كَأَنْ لَّمْ يَكُنْ کہا گیا: ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ نے ان کی بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ { الرَّايَةَ} فَقَالَ آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور دعا کی ۔ وہ بالکل أَقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُوْنُوْا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ اچھے ہو گئے گویا ان کو کوئی بیماری ہی نہ ہوئی تھی۔ آپ نے ان کو پرچم } دیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا { عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں کہ وہ ہماری ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا طرح مسلمان ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا: آہستگی يَجِبُ عَلَيْهِمْ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ سے جاؤ یہاں تک کہ جب تم ان کے آنگن میں بِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ أَنْ يَكُوْنَ لَكَ ڈیرے لگا دو۔ پھر اس کے بعد ان سے اسلام قبول حُمُرُ النَّعَمِ۔ کرنے کے لئے کہو اور جو باتیں ان کے لئے ضروری ہوں وہ انہیں بتاؤ۔ بخدا اگر اللہ تمہارے ذریعہ کسی شخص کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ اطرافه: ۲٩٤٢، ۳۷۰۱، ۴۲۱۰ یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۱۷۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔