صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 354
صحيح البخاری جلده ۳۵۴ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير بَاب ١٤٢ : الْكِسْوَةُ لِلْأَسَارَى قیدیوں کو کپڑے پہنانا ۳۰۰۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۰۰۸ عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو ( بن دینار ) ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أُتِيَ بِأَسَارَى وَأُتِيَ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: جب بدر کی جنگ بِالْعَبَّاسِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَنَظَرَ ہوئی تو (کافروں کے ) {* قیدی لائے گئے اور } النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ قَمِيْرًا عباس بھی لائے گئے۔ ان پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ بی اے فَوَجَدُوْا قَمِيْصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبَي نے ان کے لئے کر تہ تلاش کیا۔ لوگوں نے عبداللہ يُقْدَرُ عَلَيْهِ فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله بن ابی کا کرتہ ان کیلئے ٹھک پایا۔ نبیصلی اللہ علیہ سلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ فَلِذَلِكَ نَزَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ الَّذِي صلى الله نے وہی ان کو پہنا دیا اور اس وجہ سے نبی ﷺ نے علومة ( عبداللہ بن ابی کے لئے اس کے مرنے پر) اپنا کرتہ اُتار کر اسے دے دیا کہ وہ اسے پہنایا جائے۔ أَلْبَسَهُ۔ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ ابن عیینہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدٌ فَأَحَبَّ نیک سلوک کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چاہا کہ أَنْ يُكَافِتَهُ۔ اطرافه ۱۲۷۰، ۱۳۵۰، ۵۷۹۵ اس سے نیک سلوک فرمائیں۔ بَاب ١٤٣ : فَضْلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ اس شخص کی فضیلت جس کے ذریعہ کوئی شخص اسلام قبول کرے ۳٠٠٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۰۰۹ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد اللہ بن عبدالقاری نے ہمیں مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيُّ بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے روایت کی کہ انہوں نے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۱۷۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔