صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 353
صحيح البخاری جلده ۳۵۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ط جاتی رہی۔عنوانِ باب میں بیان شده آیت یہ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَ كُم مِّنَ الْحَقِّ : يُخْرِجُونَ الرَّسُوْلَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللهِ رَبِّكُم إِن كُنتُم إِنْ كُنتُمْ خَرَجْتُمُ جِهَادًا فِي سَبِيْلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بمَا أَخْفَيْتُمُ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَفْعَلُهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيْلِ (الممتحنة: ۲) اے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو گہرا دوست نہ بنایا کرو تم تو ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔حالانکہ وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہاری طرف آیا ہے۔وہ تم کو بھی اور رسول کو بھی صرف اس لئے کہ تم سب اللہ پر جو کہ تمہارا رب ہے ایمان لائے ہولڑ نے کے لئے ( گھروں سے) نکالتے ہیں۔اگر تم میرے رستے میں کوشش کرنے اور میری رضا جوئی کے لئے نکلو تو تم میں سے بعض چوری چوری ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہیں اور میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ایسا کام کرے وہ سمجھ لے کہ وہ سیدھے رستہ سے بھٹک گیا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ جب اپنی بیٹی سے ملنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ میں آئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آنے کی خبر دی اور اپنے پاس ٹھہرانے کی اجازت چاہی کیا یہ اس احتیاط کی وجہ سے تھا جو جنگ کے دنوں میں ضروری ہوتی ہے۔مذکورہ بالا آیات کریمہ میں دشمن کی طرف میلان اور اس سے راہ و رسم اور تعلقات قائم کرنے یا جاری رکھنے کی بڑی وجہ قرابت و مروت بتائی گئی ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ امر تمہارے حالات سے دشمن کے واقف ہو جانے کا ذریعہ نہ بنے۔جنگ میں کامیابی کے لئے ابتدائی ضرورت یہی ہے کہ برسر پیکار قوم کی نیت و قصد، قوت و استعداد اور نقل و حرکت کا صحیح لم حاصل ہو اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے جو غلطی سرزد ہوئی وہ بھی اسی قسم کی تھی جس کا ذکر آیت مذکورہ بالا میں کیا گیا ہے۔ان کی اس غلطی پر بعض صحابہ کو شدید غصہ آیا اور انہیں قتل کر دینے پر وہ آمادہ ہو گئے۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حقیقت بین ان کے قلبی اخلاص تک پہنچی اور آپ نے ان کا عذر قبول فرما لیا۔واقعہ مذکورہ بالا میں آپ کے حسن انتظام اور خلق کریم کی شان نمایاں ہے۔عنوانِ باب کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ حضرت امام بخاری کو یہی امر دکھانا مقصود ہے۔جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورہ ممتحنہ کی ہے اور اس ساری سورۃ کا موضوع ہی یہ ہے کہ بحالت جنگ خود حفاظتی کی تدابیر تحکم رکھی جائیں۔یہاں تک کہ اگر کفار کی طرف سے کوئی اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو اس کی بھی اچھی طرح جانچ کر لی جائے۔اس تعلق میں کتاب التفسير، سورة الممتحنة، باب اذا جاء كم المؤمنات مهاجرات بھی دیکھئے۔(بخاری، كتاب الهبة، باب ۲۹: الهدية للمشركين، روایت نمبر ۲۶۲۰)