صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 352
صحيح البخاری جلده ۳۵۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأَ مُلْصَقًا گیا تھا۔ ان میں سے نہ تھا اور دوسرے مہاجرین جو فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا آپ کے ساتھ تھے ان کی مکہ میں رشتہ داریاں تھیں وَكَانَ مَنْ مَّعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ جن کے ذریعہ وہ اپنے گھر بار اور مال و اسباب کو قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ يَحْمُوْنَ بِهَا أَهْلِيْهِمْ بچاتے رہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر وَأَمْوَالَهُمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ کوئی احسان کردوں ۔ کیونکہ ان میں کوئی رشتہ داری تو النَّسَبِ فِيْهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا میری تھی ہی نہیں۔ شاید وہ اس احسان ہی کی وجہ سے يَحْمُوْنَ بِهَا قَرَابَتِي مَا فَعَلْتُ كُفْرًا میرا پاس کریں اور میں نے کسی کفر یا ارتداد کی وجہ وَلَا ارْتِدَادًا وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ سے یہ نہیں کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کبھی الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله پسند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ نے فرمایا: اس نے تم سے سچ بیان کیا ہے۔ حضرت عمر يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس هَذَا الْمُنَافِقِ قَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا منافق کی گردن مار دوں۔ آپ نے فرمایا: وہ تو وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُوْنَ قَدِ جنگ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوْا مَا اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا: جو تم چاہو کرو۔ میں نے شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ قَالَ سُفْيَانُ تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کر دی ہے۔ سفیان نے وَأَيُّ إِسْنَادٍ هَذَا ۔ کہا: یہ سند بھی کیا ہی عمدہ سند ہے۔ اطرافه: ۳۰۸۱، ۳۹۸۳، ۴۲۷۷، ٤۸۹۰، ٦٢٥٩، ٦٩٣٩۔ تشريح : الجَاسُوسُ : عنوان عنوان باب میں لفظ تجسس کے معنی بیان کر کے اس صورت تجسس کی طرف توجہ دلائی ہے جو جائز ہے۔ یہ جس آیت وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا (الحجرات:۱۳) کی ممانعت کے تحت نہیں آتا۔ حدیث میں بیان شدہ تجس کا تعلق دشمن کے حالات کا علم حاصل کرنے اور ایسے لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی ہے جو محل امن ہوں اور یہ امر صرف حالت جنگ ہی سے خاص نہیں بلکہ امن کی حالت میں بھی ضروری ہے اور اسی انتظام کی وجہ سے عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں دشمن کے حالات سے واقفیت معلوم کی اور تجسس نہ کیا کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے ( ترجمہ از حضرت خلیفة المسیح الرابع )