صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 351
صحيح البخاری جلده ۳۵۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بیان کیا۔میں نے یہ حدیث ان سے دو دفعہ سنی۔انہوں ابْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ نے کہا: حسن بن محمد نے مجھے بتایا، کہا: عبید اللہ بن ابی ابْنُ أَبِي رَافِعِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رافع نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُوْلُ اللهِ سے سنا۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ زبیر اور مقداد بن اسوڈ کو بھیجا۔آپ نے فرمایا: تم وَالْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ وَقَالَ انْطَلِقُوْا چلے جاؤ۔جب تم روضہ خاخ میں پہنچو تو وہاں ایک حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخِ فَإِنَّ بِهَا شتر سوار عورت ہوگی اور اس کے پاس ایک خط ہے۔ظَعِيْنَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا تم وہ خط اس سے لے لو۔ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى جب ہم روضہ خاخ میں پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ انْتَهَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ فَإِذَا نَحْنُ بِالطَّعِيْنَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ وہاں ایک شتر سوار عورت موجود ہے۔ہم نے کہا: خط نکالو۔وہ کہنے لگی: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ہم فَقُلْنَا فَقَالَتْ مَا مَعِي مِنْ كِتَابِ نے کہا تمہیں خط نکالنا ہوگا ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار لَتُخْرِجنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ القِيَابَ دیں گے ( اور تلاشی لیں گے۔) اس پر اس نے وہ خط فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ اپنے جوڑے سے نکالا اور ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عليہ وسلم کے پاس لے آئے۔دیکھا تو اس میں یہ فَإِذَا فِيْهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ إِلَى أُنَاسِ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ} مِنْ { کے مشرکوں اہم کے نام۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ کے کسی ارادے کی ان کو اطلاع دے رہا تھا۔رسول اللہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسے بلا بھیجا اور ) پوچھا: حاطب فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ کیا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے متعلق جلدی نہ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ فرمائیں۔میں ایک ایسا آدمی تھا جو قریش میں آکر مل یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق اس جگہ متن میں موجود ہیں (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ۱۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔