صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 350 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 350

صحيح البخاری جلده ۳۵۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ فَقَامَ فرماتے تھے کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اكْتَتَبْتُ نہ کوئی عورت بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ محرم رشتہ دار فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتِ ہو سفر کرے۔اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! فلاں فلاں غزوہ میں میرا نام لکھا گیا ہے امْرَأَتِي حَاجَّةٌ قَالَ اذْهَبْ فَاحْجُجْ اور میری بیوی حج کرنے کے لئے نکلی ہے۔آپ نے مَعَ امْرَأَتِكَ۔اطرافه ١٨٦٢، ٣٠٦١، ٥٢٣٣ فرمایا: جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔تشريح مَنِ اكتب فِي جَيْشِ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ حَاجَّةُ۔۔۔هَلْ يُؤْذَنُ لَهُ: عَوَانِ بَابِ سے ظاہر ہے کہ فوجی بھرتی میں نام لکھوانے کا طریق عہد نبوی میں بھی رائج تھا۔چونکہ جہاد فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے، اس لئے معذور کو بھی اجازت لینی پڑتی تھی اور ایسا انتظام ضروری تھا۔تا معلوم ہو کہ مجاہدین میں سے کون فی الواقعہ معذور ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ لڑنے والوں کی تعداد کا صیح اندازہ ہو سکے۔اب اس کے لئے سلطنت میں باقاعدہ محکمہ ہے۔جو متعدد شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے۔روایت نمبر ۳۰۰۶ سے بعض شارحین نے حج کی جہاد پر فضیلت کا استدلال کیا ہے لیکن یہ درست نہیں۔کیونکہ روایت کا تعلق صرف ایک خاص واقعہ سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط سے متعلق اسلام کے ایک حکم کی وضاحت فرمائی، جسے سن کر ایک مجاہد اُٹھا اور اس نے کہا کہ میری بیوی تنہا حج کے لئے جارہی ہے۔آپ نے اسے اس کے ساتھ جانے کی اجازت دی۔چونکہ اس کی شمولیت کے بغیر بھی غزوہ کی تیاری ہو سکتی تھی آپ نے پسند نہ فرمایا کہ شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہو۔اس تعلق میں باب ۱۸۱ بھی دیکھئے جہاں مردم شماری کرانے کا ذکر ہے۔بَاب ١٤١ : الْجَاسُوسُ جاسوسی کا بیان وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَا تَتَّخِذُوا نیز الله عز وجل کے اس فرمان کا ذکر کہ اے مسلمانو ! عَدُوّى وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاءَ میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔(الممتحنة: (٢) التَّجَسُّسُ التَّبَحُثُ۔تجسس کے معنی ہیں: بات ٹول کر نکالنا، جستجو کرنا۔٣٠٠٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۰۰۷۔علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عمرو بن دینار نے ہم سے۔۔