صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 349
صحيح البخاری جلده تشریح ۳۴۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مَا قِيْلَ فِي الْجَرَسِ وَنَحْوِهِ فِي أَعْنَاقِ الإِبل : عنوانِ باب سے ظاہر ہے کہ امام بخاریؒ اس باب سے بعض کمزور اقوال کو رڈ کرنا چاہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں ہار وغیرہ باندھنے سے متعلق مروی ہیں۔امام ابن حجر اور علامہ عینی نے یہ کمزور اقوال نقل کئے ہیں۔ان میں سے ابوداؤد کی ایک روایت ہے جو اُم المؤمنین حضرت ام حبیبہ سے منقول ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيْهَا جَرَسٌ سے ملائکہ ان لوگوں کے رفیق سفر نہیں ہوتے جن کے قافلہ میں گھنٹی ہو اور صحیح مسلم میں بھی ایک روایت ہے جو حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے: الْجَرَسُ مِزَامِيرُ الشَّيْطن نئی شیطان کی بنسری ہے۔امام مالک نے مذکورہ بالا روایت کے تعلق میں بتایا ہے کہ عرب تعویذ کے طور پر تندی، دھاگہ اور ہار وغیرہ اونٹ کی گردن میں باندھا کرتے تھے جس کا نام تمیمہ ہوتا تھا۔تا بدنظر سے محفوظ رہے۔اس لئے آنحضرت علی نے ایسے تعویذ ایک موقع پر کٹوا دئیے تھے۔اس امر کی تائید حضرت عقبہ بن عامر والی حدیث مرفوع سے بھی ہوتی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں: مَنْ عَلَّقَ تَمِيْمَةٌ فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ ہے جس نے تعویذ لڑکا یا اللہ اس کا مقصد پورا نہ کرے۔ابوداؤد نے بھی یہی حدیث نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۱۷۱) امام بخاری نے کتاب الجہاد میں یہ باب قائم کیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عقیدہ کی وجہ سے کسی جنگ کے موقع پر اونٹوں کی گردنوں میں تعویذ لٹکائے گئے تھے جو نبی کریم ﷺ نے کٹوا دیئے کہ یہ تعویذ تقدیر الہی کو نہیں ٹال سکتے۔مشرک وہم پرست ہوتا ہے اور موحد متوکل علی اللہ اور وہ اپنی دعاؤں اور جدو جہد سے اپنی تقدیر آپ درست کرتا ہے۔یہ تعلیم روح جہاد سے مطابق ہے۔بَاب ١٤٠ : مَنِ اكْتَتَبَ فِي جَيْشِ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ حَاجَّةً أَوْ كَانَ لَهُ عُذْرٌ هَلْ يُؤْذَنَ لَهُ فوج میں جو اپنا نام لکھوائے اور پھر اس کی بیوی حج کرنے کو نکلے اور اس شخص کو کوئی عذر پیش آجائے تو کیا اس کو جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے ؟ عن ٣٠٠٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۰۰۶: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ( بن عيينه ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار ) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہے، عمرو نے ابومعبد (نافذ) سے، ابومعبد نے أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( حضرت عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت يَقُوْلُ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ (سنن ابی داود کتاب ،الجهاد ،باب في تعليق الأجراس) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب كراهة الكلب والجرس في السفر۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين، حديث عقبة بن عامر الجهني، جز ۴ صفح۱۵۴) (صحيح ابن حبان، كتاب الرقى والتمائم، ذكر الزجر عن تعليق التمائم التي فيها الشرك بالله)