صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 348
۳۴۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صحيح البخاری جلده جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ الله فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ قَالَ الصَّلَاةُ قَالَ ثُمَّ مَهُ قَالَ الْجِهَادُ قَالَ فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ فَقَالَ آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا جَاهِدَنَّ وَلَا تُرُ كَنَّهُمَا قَالَ فَأَنتَ أَعْلَمُ ( فتح البارى جزء 1 صفحه ۱۷۰) ترجمه: حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ہی کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے بہترین اعمال کے بارہ میں پوچھا۔آپ نے فرمایا: نماز۔اس نے کہا: پھر کیا ؟ آپ نے فرمایا: جہاد۔اس نے کہا: میرے تو والدین ہیں۔آپ نے فرمایا: میں تمہیں اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیتا ہوں۔اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی مبعوث کیا ہے میں ضرور جہاد کروں گا اور ان دونوں کو چھوڑ دوں گا۔آپ نے فرمایا: تو تم بہتر جانتے ہو۔} اس جواب سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کے بارے میں مطمئن تھا۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم بہتر جانتے ہو۔جواب دینے والے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ والدین کی خدمت سے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد نظر انداز کرتے ہوئے وہ جہاد میں شریک ہو۔رَضِيَ بَاب ١٣٩ : مَا قِيْلَ فِي الْجَرَسِ وَنَحْوِهِ فِي أَعْنَاقِ الْإِبِلِ اونٹوں کی گردنوں میں گھنٹی وغیرہ باندھنے سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے ۳٠٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۰۰۵ عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بن عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيْرِ الْأَنْصَارِ ابی بکر سے، عبداللہ نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں بَعْضٍ أَسْفَارِهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ حَسِبْتُ تھے۔عبداللہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابو بشیر أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَبِيْتِهِمْ فَأَرْسَلَ نے کہا: لوگ اپنی اپنی خواب گاہوں میں تھے۔رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ کسی اونٹ رَسُولًا أَنْ لَّا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيْرِ کی گردن میں کوئی شئے گھنٹی تندی وغیرہ نہ رہے اور قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ۔وہ کاٹ دی جائے۔احمد (مسند حبنل ، مسند عبد الله بن عمرو، جزء ۲ صفحه ۱۷۲) بن (صحيح لابن حبان، كتاب الصلاة، باب فضل الصلوات الخمس، جزء ۵ صفحه ۸)