صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 347
صحيح البخاری جلده ۳۴۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ جس کے پاس تھا اس نے بیچنا چاہا۔اس نے اس کو خراب وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصِ فَسَأَلْتُ کر دیا۔اس لئے میں نے اسے خریدنا چاہا اور میں نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا خیال کیا کہ وہ اس کو سستا ہی بیچ دے گا۔میں نے نبی سے پوچھا۔آپ نے فرمایا: اسے نہ خرید وخواہ وہ تَشْتَرِهِ وَإِنْ بِدِرْهَم فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي ایک درہم پر ہی کیوں نہ ملے۔کیونکہ اپنی دی ہوئی چیز هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِي قَيْنِهِ۔سے پلٹنے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی تے چاہتا ہے۔اطرافه: ١٤٩٠، ٢٦٢٣، ٢٦٣٦، ٢٩٧٠، بَابِ ۱۳۸ : الْجِهَادُ بِإِذْنِ الْأَبَوَيْنِ ماں باپ کی اجازت سے جہاد کرنا ٣٠٠٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۳۰۰۴ آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں حَدَّثَنَا حَبِيْبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ بتایا۔حبیب بن ابی ثابت نے ہم سے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَكَانَ لَا میں نے ابو العباس شاعر سے سنا اور حدیث کی يُتَهمُ فِي حَدِيْثِهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ روایت میں وہ متہم نہ تھے۔انہوں نے کہا: میں نے ابْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا۔کہتے تھے: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ جہاد کے متعلق اجازت مانگی۔آپ نے پوچھا: کیا أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيْهِمَا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔آپ فَجَاهد۔طرفه ٥٩٧٢ تشریح نے فرمایا: پھر تم ان کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو۔اَلْجِهَادُ باذن الأبَوَيْنِ : اس باب کا تعلق جہاد سے ہے کہ مجاہد کے والدین موجود ہوں تو ان سے اجازت لینا مناسب ہے۔مبادا بیٹے کی عدم موجودگی میں انہیں تکلیف ہو۔جمہور کا یہ مذہب ہے کہ اگر والدین کی اجازت نہ ہو تو جہاد کرنا حرام ہے اور اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔ایک یہ کہ والدین مسلمان ہوں ، دوسری یہ کہ والدین کی خدمت اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے اس پر فرض عین ہو اور اس کے سوا والدین کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو۔چنانچہ ابن حبان کی روایت سے بھی امرند کورہ بالا کا استدلال ہوتا ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو