صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 346
صحيح البخاری جلده ۳۴۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ سو جب تم میں سے کوئی اپنا کام پورا کر چکے تو اپنے إِلَى أَهْلِهِ۔اطرافه: ١٨٠٤، ٥٤٢٩ تشریح گھر والوں کے پاس جلدی چلا آئے۔اَلسُّرْعَةُ فِي السَّيْر : اس باب کا مقصود یہ ہے کہ مومن بیدار مغز اور چاق و چوبند ہوتا ہے اور وہ سفر وغیرہ کی وجہ سے اپنی عبادت اور اطاعت نہیں چھوڑتا ، سوا ان امور کے جن میں شریعت نے مسافر کو سہولت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی عبد صالح کے ساتھ مداومت کی شان رکھتا ہے۔بَاب ۱۳۷ : إِذَا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فَرَآهَا تُبَاعُ اگر گھوڑا سواری کے لئے وقف کرے اور پھر اسے پکتا دیکھے ۳۰۰۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۰۰۲: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى حضرت عمر بن خطاب نے اللہ کی راہ میں گھوڑ ا سواری فَرَسِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاغُ کے لئے دیا۔پھر انہوں نے اسے بکتا دیکھا اور چاہا فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ کہ اسے خود خرید لیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْتَعُهُ علیہ وسلم سے پوچھا۔آپ نے فرمایا: اسے نہ خرید داور وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ۔اطرافه ۱٤٨٩، ۲۷۷۵، ۲۹۷۱۔اپنے صدقہ سے نہ پلٹو۔۳٠٠٣: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي ۳۰۰۳: اسماعیل (بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے زید بن اسلم سے، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں عَنْهُ يَقُوْلُ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: سَبِيلِ اللَّهِ فَابْتَاعَهُ أَوْ فَأَضَاعَهُ الَّذِي میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کیلئے دیا۔