صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 343
صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سنا ہے۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ فرمایا ہے : جب بندہ بیمار ہو جائے یا وہ سفر کرے تو اس لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيْحًا۔کے لئے ویسے ہی عمل لکھے جاتے ہیں جو وہ بحالت صحت گھر میں کیا کرتا تھا۔بَاب ١٣٥ : السَّيْرُ وَحْدَهُ اکیلے سفر کرنا ۲۹۹۷: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۲۹۹۷ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔محمد بن منکد رنے ہم سے قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ نَدَبَ النَّبِيُّ میں لوگوں سے پوچھا کہ ان میں سے کون فلاں کام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ کرے گا؟ حضرت زبیر نے جلدی سے جواب دیا کہ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ میں کروں گا۔پھر آپ نے ان سے پوچھا کہ کون ان فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ میں سے فلاں کام کرے گا؟ پھر حضرت زبیر نے الزُّبَيْرُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جلدی سے جواب دیا کہ میں کروں گا۔پھر آپ نے ان سے پوچھا کہ کون ان میں سے فلاں کام کرے گا؟ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِي حَوَارِيًّا پھر حضرت زبیر نے جلدی سے جواب دیا کہ میں کروں وَحَوَارِيَ الزُّبَيْرُ قَالَ سُفْيَانُ گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرنی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔سفیان نے کہا: الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ۔حواری کے معنی ہوتے ہیں مددگار۔اطرافه: ٢٨٤٦، ۲۸٤٧، 3۷۱۹، 4113، 7761۔۲۹۹۸ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۲۹۹۸ ابوالولید نے ہمیں بتایا کہ عاصم بن محمد نے عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ انہوں نے (حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے، عَن