صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 342
صحيح البخاری جلده ۳۴۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ اور اس کیلئے تمام کی تمام خوبیاں ہیں اور وہ ہر بات پر الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قدرت رکھتا ہے۔ہم سفر سے لوٹ رہے ہیں۔اپنی غلطیوں آيبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ کا اعتراف کرتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ ہم آئندہ غلطیاں نہیں کریں گے۔ہم اپنے رب ہی کی عبادت لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔کرنے والے ہیں، اپنے رب ہی کے سامنے سر جھکانے والے ہیں، اپنے رب ہی کی حمد بیان کرنے والے قَالَ صَالِحٌ فَقُلْتُ لَهُ أَلَمْ يَقُلْ عَبْدُ اللَّهِ ہیں۔اللہ نے یقیناً اپنا وعدہ سچا کر دیا اور اپنے بندے کی إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ لَا۔اطرافه: ۱۷۹۷، ٣٠٨٤، ٤١١٦، ٦٣٨٥۔تشریح: یاوری فرمائی اور تمام جتھوں کو تنہا شکست دے کر بھگا دیا۔صالح نے کہا: میں نے سالم سے پوچھا: کیا حضرت عبد اللہ بن عمر) نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا ؟ کہا نہیں۔ان ابواب میں ایسی ہدایات کا ذکر ہے جو میدانِ جنگ کی طرف بڑھنے اور لڑائی شروع کرنے سے متعلق ہیں۔مثلاً بلندی پر چڑھتے یا اس سے اترتے وقت دھیمی آواز سے ذکر الہی ، سفر میں اموال کی نگہداشت، حرکات وسکنات کا خیال، ضبط نفس اور بحالت جنگ تکبیر بلند آواز سے کہنا۔بَاب ١٣٤ : يُكْتَبُ لِلْمُسَافِرٍ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الْإِقَامَةِ مسافر کے اسی طرح عمل لکھے جاتے ہیں جس طرح وہ گھر میں کیا کرتا تھا ٢٩٩٦: حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ :۲۹۹۶ مطر بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بن ہارون نے ہمیں بتایا۔عوام بن حوشب ) نے ہم حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ سے کہا کہ ابراہیم ابو اسماعیل سکسکی نے ہمیں بتایا، کہا: قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ وَاصْطَحَبَ میں نے ابو بردة ( بن ابی موسیٰ ) سے سنا اور وہ اور هُوَ وَيَزِيْدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ يزيد بن ابی کبشہ کسی سفر میں اکٹھے رہے تھے اور یزید فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَهُ اس سفر میں روزے رکھتے تھے تو ابو بردہ نے ان سے أَبُو بُرْدَةَ سَمِعْتُ أَبَا مُوْسَی مِرَارًا کہا: میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری) سے بارہا