صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 341 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 341

صحيح البخاری جلده امس ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ بن عبد الرحمن سے حصین نے سالم بن ابی جعد سے، أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِ اللهِ سالم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم جب بلندی پر چڑھتے اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اُترتے تو سبحان اللہ کہتے۔رضِيَ كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا۔طرفه: ٢٩٩٤۔باب ۱۳۳: التَّكْبِيْرُ إِذَا عَلَا شَرَفًا اللہ اکبر کہنا جب کسی بلندی پر چڑھے ٢٩٩٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۹۹۴ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ شُعْبَةَ ابن عدی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے شعبہ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ سے شعبہ نے حصین سے، حصین نے سالم سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رَضِيَ انہوں نے کہا: جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر كَبَّرْنَا وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا۔کہتے اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔طرفه: ۲۹۹۳ ٢٩٩٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ ۲۹۹۵: عبد اللہ بن یوسف ) نے ہم سے بیان کیا، رضي عُمَرَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ کہا: عبد العزیز بن ابی سلمہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ سَالِمٍ صالح بن کیسان سے، صالح نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کی کہ انہوں نے کہا: نبی مہ جب حج یا عمرہ سے لوٹتے اور میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا: جب غزوہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنَ لوٹتے، کہتے تھے۔جب آپ کسی گھائی یا اونچے میدان الْحَج أَوِ الْعُمْرَةِ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ میں پہنچتے تو آپ تین بار اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد فرماتے: الْغَزْوِ يَقُوْلُ كُلَّمَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ أَوْ لا الہ الا اللہ یعنی ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔فَدْفَدٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله اس کا کوئی شریک نہیں۔ساری بادشاہت اسی کی ہے