صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 340
صحيح البخاری جلده ۳۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ۔ سفیان سے یہی نقل کیا ہے۔ (اس میں بھی یہ الفاظ ہیں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔ اطرافه: ٣٧١، ٦١٠، ۹۴۷، ۲۲۲۸، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢٩٤۳، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ،٣٠٨٥، ٣٠٨٦ ٣٣٦٧، ٣٦٤٧ ٤٠٨٣، ٤٠٨٤ ، ٤١٩٧ ، ١٩٨، ٤١٩٩ ،٥٣٨، ٥٤٢٥۷ ،۵۱۶۹ ،۵۱۵۹ ،۵۰۸۵ ، ٤٢٠٠، ٤٢٠١، ٤٢١١ ، ٤٢١٣ ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ٦١٨٥ ، ٦٣٦٣، ٦٣٦٩، ٧٣٣٣ بَاب ۱۳۱ : مَا يُكْرَهُ مِنْ رَّفْعِ الصَّوْتِ فِي التَّكْبِيرِ تکبیر کہتے وقت آواز بلند کرنا جو مکروہ ہے ۲۹۹۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۲۹۹۲ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم سے، عاصم عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ نے ابوعثمان سے ، ابو عثمان نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا إِذَا أَشْرَفْنَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب بھی عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا ارْتَفَعَتْ کی وادی کے کنارے پر آنکلے تو ہم لا الہ الا اللہ اور أَصْوَاتُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللہ اکبر کہتے۔ ہماری آواز میں بلند ہو جاتی۔ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو آہستہ، ضبط سے کام لو۔ کیونکہ أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا تم کسی پہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ ہو اور نہ ایسے کو جو یہاں موجود نہیں۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تو بہت ہی غَائِبًا إِنَّهُ مَعَكُمْ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ شنوا ہے۔ بہت ہی نزدیک ہے۔ اس کا نام بہت ہی تَبَارَكَ اسْمُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ۔ مبارک ہے اور اس کی شان بہت ہی بلند ہے۔ اطرافه ٤٢٠٥، ٦٣٨٤ ، ٦٤٠٩، 6610، 7386۔ باب ۱۳۲ : التَّسْبِيحُ إِذَا هَبَطَ وَادِيًا سبحان اللہ کہنا جب کسی وادی میں اُترے ۲۹۹۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ۲۹۹۳ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنِ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین