صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 338 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 338

صحيح البخاری جلده ۳۳۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عبید اللہ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبداللہ نے وَتَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَّافِعِ عَنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور عبید اللہ کی ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ طرح اس حدیث کو ( محمد ) بن اسحق نے بھی نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ۔وَقَدْ سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فِي أَرْضِ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بھی دشمن کے ملک میں الْعَدُوِّ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ الْقُرْآنَ۔سفر کیا حالانکہ وہ قرآن جانتے تھے۔۲۹۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۹۹۰ عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مَّالِكِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسَافَرَ صلى الله علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن کو بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُةِ۔ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔كَرَاهِيَةُ السَّفَرِ بِالْمَصَاحِفِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُو : ۱۲۳ سے ۲۹ تک کے ابواب میں تشریح: متفرق مسائل سفر بیان ہوئے ہیں۔خواہ سفر جنگ کی حالت میں ہو یا امن کی حالت میں اور اس تعلق میں عام مدد کرنے کا ذکر ہے۔باب ۱۲۸ سابقہ ابواب کے لئے بطور فصل ہے اور باب ۱۲۹ ایک لفظی اختلاف کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے۔باب کے عنوان میں الفاظ كَذَلِكَ يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْر سے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو كَرِهَ رَسُولُ اللهِ لا أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرآن کے الفاظ میں نقل کی ہے اور اسی مفہوم کی محمد بن اسحق کی متابعت کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو امام احمد بن حنبل نے نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ کے الفاظ میں نقل کی ہے۔انہوں نے نافع سے لفظ نہی روایت کیا ہے۔عنوان باب سے جو مصدر یہ ہے وضاحت کی گئی ہے کہ یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۶) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نا پسند فرمایا ہے کہ قرآن مجید دار الحرب میں لے جایا جائے۔اس ممانعت کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ قرآنِ مجید کے نسخے ان دنوں بہت ہی کم تھے۔ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔بعض کے نزدیک (مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمر، جزء۲ صفحہ ۷۶)