صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 332 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 332

صحيح البخاری جلده ۳۳۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۲۹۸۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۲۹۸۱ محمد بن شنی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے بھی ( بن سعید انصاری ) يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ سے سنا۔ انہوں نے کہا: بشیر بن بیسار نے مجھے بتایا أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ که حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہ جس برس خیبر فتح ہوا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا ساتھ نکلے۔ جب صہباء میں پہنچے { اور یہ خبیر ہی بِالصَّهْبَاءِ {وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ} وَهِيَ کے علاقے میں ہے اور اس کے نزدیک ہے تو أَدْنَى خَيْبَرَ فَصَلَّوْا الْعَصْرَ فَدَعَا النَّبِيُّ انہوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَطْعِمَةِ وَلَمْ نے کھانا منگوایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف يُؤْتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ستو ہی لائے گئے ۔ ہم نے وہی منہ سے ادھر اُدھر بِسَوِيْقٍ فَلَكْنَا فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ قَامَ پھیر کر کھائے اور پانی پیا۔ پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضْمَضَ علیہ وسلم اُٹھے اور آپ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی وَمَضْمَضْنَا وَصَلَّيْنَا ۔ اور نماز پڑھی۔ اطرافه: ۳۰۹، ۳۱۵، ۱۷۵ ، ٤١٩۵، ٥٣٨٤ ، ٥٣٩٠، ٥٤٥٤، ٥٤٥٥۔ ۲۹۸۲ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُوْمٍ ۲۹۸۲ بشر بن مرحوم نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ یزید بن ابو عبید نے حضرت ابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ الله سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ النَّاسِ وَأَمْلَقُوا نے کہا: (ایک سفر میں ) لوگوں کے زادکم ہو گئے اور ان کے پاس کچھ نہ رہا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگنے آئے۔ آئے۔ آپ نَحْرِ إِبْلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمر ان لوگوں فَأَخْبَرُوْهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبْلِكُمْ سے ملے اور انہوں نے حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمر عد یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۱۵۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔