صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 16 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 16

صحيح البخاری جلده ۱۶ ۵۳ - كتاب الصلح بَاب : الصُّلْحُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مشرکوں کے ساتھ صلح کرنا فِيْهِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ۔ وَقَالَ عَوْفُ بْنُ اس بارہ میں ابوسفیان سے روایت بیان کی جاتی ہے۔ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور حضرت عوف بن مالک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ تَكُوْنُ هُدْنَةٌ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ سے نقل کی ہے کہ پھر اس کے بعد تمہارے اور بنی اصغر ( شام کے عیسائیوں ) کے درمیان عارضی صلح ہوگی ۔ بَنِي الْأَصْفَرِ۔ وَفِيْهِ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ اور اس بارہ میں حضرت سہل بن حنیف کی روایت ہے کہ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَسْمَاءُ وَالْمِسْوَرُ عَنِ ابو جندل کے واقعہ میں ہم اپنے تئیں دیکھ چکے ہیں۔ اور حضرت اسماء بنت ابی بکر اور حضرت مسور بن مخرمہ) النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ نے بھی نبی ﷺ سے اس بارے میں روایت کی ہے۔ صلى الله ۲۷۰۰ : وَقَالَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ : ۲۷۰۰ اور موسیٰ بن مسعود نے کہا: سفیان بن سعید حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق سے مروی ہے۔ انہوں نے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ قَالَ صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے۔ نبی ﷺ نے حدیبیہ کے دن مشرکوں سے تین الْمُشْرِكِيْنَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ باتوں پر صلح کی کہ جو مشرکین میں سے اُن کے پاس آئے أَشْيَاءَ عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ گا آپ اسے اُن کی طرف واپس کر دیں گے اور جو ان رَدَّهُ إِلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَاهُمْ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ کے پاس مسلمانوں میں سے آئے وہ اُس کو واپس نہیں لَمْ يَرُدُّوْهُ وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِل کریں گے۔ اور آپ آئندہ (سال) مکہ میں آئیں گے وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا اور اُس میں تین دن ٹھہریں گے۔ ہتھیار تلوار اور کمان بِجُلُبَّانِ السَّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وغيره غلاف میں رکھے ہوئے (مکہ میں ) داخل ہوں وَنَحْوِهِ فَجَاءَ أَبُو جَنْدَلٍ يَحْجُلُ فِي گے۔ حضرت ابو جندل زنجیروں میں لڑکھڑاتے اتے ہوئے قُيُوْدِهِ فَرَدَّهُ إِلَيْهِمْ۔ آئے تو آپ نے انہیں اُن کی طرف واپس کر دیا۔