صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 15
صحيح البخاری جلده ۱۵ ۵۳ - کتاب الصلح لِفَاطِمَةَ دُوْنَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ احْمِلِيْهَا حضرت فاطمہ (علیہا السلام) سے کہا: اپنے چا کی بیٹی فَاخْتَصَمَ فِيْهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ کو لے لو۔انہوں نے اُسے سوار کر لیا یا پھر حضرت فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ على حضرت زید اور حضرت جعفر اس لڑکی کے بارے عَمِّي۔{وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّى} میں آپس میں جھگڑ پڑے۔حضرت علی نے کہا: میں اس کی پرورش کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ وہ میرے چچا کی وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ بیٹی ہے۔اور حضرت جعفر نے کہا: وہ میرے چا کی بھی أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بَتي ہے اور اُس کی خالہ (حضرت اسماء بنت عمیس ) وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ میری بیوی ہے اور حضرت زید کہتے تھے: وہ میرے الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِي : أَنْتَ مِنَي وَأَنَا مِنْكَ۔بھائی کی بیٹی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی خالہ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي کو دیئے جانے کا فیصلہ کیا اور فرمایا: خالہ بمنزلہ والدہ وَخُلُقِي۔وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَنْتَ أَخُوْنَا کے ہوتی ہے۔اور حضرت علی سے کہا: تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں۔اور حضرت جعفر سے کہا: تم صورت وَمَوْلَانَا۔اور خصلت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو۔اور حضرت زید سے کہا: تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے محت۔اطرافه ۱۷۸۱، ۱۸٤٤، ۲۶۹۸، ٢۷۰۰، ٣١٨٤، ٤٢٥١۔تشریح: كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ فَلَانَ ابْنَ فُلَانٍ : فقہاء نے وثیقہ صلح کے الفاظ میں نام، کنیت ، حسب نسب اور قبیلہ و سکونت و غیره تجویز کیا ہے۔مگر یہ صورت صلح نامہ وہاں اختیار کی جاسکتی ہے جہاں ایک ہی نام کے متعدد اشخاص ہوں اور جہاں نسب میں شک کا احتمال نہ ہو، وہاں مختصر الفاظ کافی ہیں۔اسی غرض سے یہ باب قائم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح نامہ کا نمونہ پیش کیا گیا ہے، جو مقام حدیبیہ میں قریش مکہ کے ساتھ طے پایا۔تفصیل کے لئے کتاب المغازی روایات زیر باب ۳۶ دیکھئے۔الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمّ: اس روایت کے آخر میں حضرت حمزہ کی بیٹی کی ولایت کے بارے میں اختلاف ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہمارے لئے نہایت شاندار نمونہ ہے۔آپ نے شیریں و دلکش الفاظ سے اُن اقرباء میں سے ہر فرد کو خوش کر دیا جو سمجھتے تھے کہ لڑکی کی ولایت ہمارا حق ہے۔عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ "حَمَلَتها" ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحہ ۲۷۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔الفاظ وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي فتح البارى مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۷۳) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔