صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 330
صحيح البخاری جلده ۳۳۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بیٹے کی تو دھاک بندھ گئی ہے۔اس سے تو بنی اصغر کا بَنِي الْأَصْفَرِ۔بادشاہ بھی ڈر رہا ہے۔اطرافه ٧، ٥١، ٢٦٨١، ۲۸۰٤ ، ۲۹٤۱ ، ۳۱٧٤، ٤٥٥۳، ۵۹۸۰، ٦٢٦۰، ٧١٩٦، ٧٥٤١ تشریح: نُصِرتُ بالرُّعْب : رعب کا تعلق مال و دولت اور کثرت تعداد سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔اس فضل کا جاذب اور اس کا باعث عقیدہ توحید، تقوی اللہ اور اخلاق فاضلہ ہیں جن سے توکل علی اللہ، صدق وصفا، راست گفتاری اور راست روی کو درجہ اول حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس باب کے تحت ایسی روایت درج کی گئی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رعب کا خاص طور پر ذکر ہے۔مضمون کی مناسبت سے اگلا باب بھی قائم کیا گیا ہے اور اس میں چار ایسی روایتیں نقل کی گئی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی مالی کمی کا ذکر ہے۔باوجود اس کے آپ کا رعب دور و نزدیک کی اقوام پر چھا گیا تھا۔توحید باری تعالیٰ کا عقیدہ انسان کو دلیر و جری اور عقیدہ شرک اسے وہی، خوفزدہ اور بزدل بنا دیتا ہے۔اس فرق کا طبعی نتیجہ وہ رعب تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو عطا ہوا۔مَسِيرَةَ شَهْرٍ : شام، عراق اور مصر کے ملکوں کا سفر ان دنوں مہینے کا تھا۔چین، ایران اور ہندوستان کا دو ماہ کا۔عنوان باب میں ایک حدیث اور ایک آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔حدیث کے لئے دیکھئے کتاب التیمم روایت نمبر ۳۳۵ اور آیت پوری یہ ہے : إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَتَتِتُوا الَّذِينَ آمَنُوا - سَأُلْقِي فِي قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ۔۔۔(الأنفال :١٣) (یہ وہ وقت تھا جب تیرا رب ملائکہ کو بھی وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔پس مومنوں کو ثابت قدم بناؤ۔میں کفار کے دلوں میں رعب ڈالوں گا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) ان آیات سے ظاہر ہے کہ مومنوں کی ثابت قدمی اور جہاد سے کفار صرف مرعوب ہی نہ ہوں گے بلکہ شدید مقابلہ میں بے بس ہو جائیں گے اور سخت سزا پائیں گے۔غزوہ بدر کے تعلق میں بھی یہی فرماتا ہے : سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِلْ بِهِ سُلْطَانًا۔۔۔(آل عمران : ۱۵۲) جولوگ منکر ہیں ہم ان کے دلوں میں اس سبب سے کہ انہوں نے اس چیز کو اللہ کا شریک قرار دیا ہے جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری ، یقینا رعب ڈال دیں گے۔( ترجمہ از تفسیر صغیر ) باب ۱۲۳ : حَمْلُ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ دوشمن پر چڑھائی کرنے کے وقت زادِ راہ ساتھ لے جانا وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَتَزَوَّدُوا اور اللہ عزوجل کا فرمانا: زادِ راہ لے لیا کرو اور بہتر فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى (البقرة: ۱۹۸) زادِ راہ تو تقویٰ ہی ہے۔