صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 328 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 328

صحيح البخاری جلده تشریح: ۳۲۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مَا قِيْلَ فِي لِوَاءِ النَّبِي الله : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم سے متعلق ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابو یعلی اور ابو شیخ نے متعدد روایتیں نقل کی ہیں۔کسی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم سفید تھا، کسی میں ہے کہ سیاہ تھا اور ایک میں ہے کہ زرد تھا۔اس پر بعض راویوں نے بتایا ہے کہ آپ کے پرچم کا نام عقاب کے تھا اور بعض نے کہا کہ اس پر لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ لکھا تھا۔امام ابن حجر نے اس اختلاف کی یہ تو جیہ کی ہے کہ آپ نے موقع محل کی رعایت سے مختلف رنگوں کے علم استعمال کئے ہیں۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۱۵۴) مثلا فتح مکہ کے وقت آپ نے سفید علم بلند کیا ہوا تھا جو صلح و امن کی علامت ہے اور سیاہ جھنڈا چونکہ لڑائی کی علامت ہے اس لئے ایسا جھنڈا لڑائی کے وقت استعمال کیا۔عنوان ماقیل سے روایات کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔عربی میں پرچم کے لئے لِوَاء، رَايَة، علم اور صَعَدَة کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔لِوَاء کے معنی ہیں وہ بڑا پر چم جو لمبے نیزے کے سر پر لپیٹا جاتا ہے اور امام یا امیر جیش کی قیام گاہ پر نصب کیا جاتا ہے۔رائةٌ قائد حرب کے نیزہ کی آنی سے باندھا جاتا ہے اور علم دونوں موقعوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ فرق امام تزندگی نے بیان کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۵۴) صعدة پر چم کا نام اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ وہ بلند کیا جاتا ہے اور صعود کے معنی ہیں چڑھنا۔باب ۱۲۲ قَوْل النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: رُعب سے میری مدد کی گئی ہے ایک مہینہ کی مسافت تک وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: سَنُلْقِى فى اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: ہم منکروں کے دلوں میں قُلُوبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا رُعب ڈال دیں گے۔اس لئے کہ انہوں نے اللہ اشْرَكُوا بِالله۔(آل عمران: (١٥٢) کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہے۔حضرت جابر نے بھی نبی قَالَهُ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت نقل کی ہے۔وَسَلَّمَ۔° (سنن الترمذى، كتاب الجهاد، باب ما جاء في الرايات) سنن أبي داؤد، كتاب الجهاد، باب في الرايات والألوية) مصنف ابن أبي شيبة، كتاب السير، باب في الرايات السود، جزء ۶ صفحه ۵۳۳) (دلائل النبوة للبيهقي، باب دخول النبي الله مكة يوم الفتح، جزء ۵ صفحه۹۷)