صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 325
صحيح البخاری جلده ۳۲۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انگلی کو کاٹا تو دوسرے نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے جھٹکا فَأَهْدَرَهَا فَقَالَ أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ دے کر کھینچا اور اس کا دانت نکال دیا۔پھر وہ نبی ملے کے پاس آیا تو آپ نے اس کے دانت کا بدلہ نہیں فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ۔اطرافه: ١٨٤٨، ٢٢٦٥، ٤٤١٧ ، ٦٨٩٣۔تشریح: دلوایا اور فرمایا: کیا یہ اپنے ہاتھ کو تیرے سپرد کر دیتا اور تو اسے چبا جاتا جس طرح سانڈ چباتا ہے۔الْجَعَائِلُ وَالْحُمْلَانُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: اَلْجَعَائِلُ جمع ہے جَعِيْلة کی۔جو جَعَل سے مشتق ہے اور اس کے معنے ہیں مقرر کرنا۔جَعِيْلة اس مقرر کردہ رقم یا معاوضہ کو کہتے ہیں جو کسی ایسے مجاہد اور غازی کو دے کر اپنی طرف سے اسے جہاد کے لئے بھیجا جائے۔جو بوجہ مالی کمزوری کے جہاد میں نہ جاسکتا ہو اور حملان اسم مصدر ہے۔حمل کے معنی ہیں سوار کرنا۔حُملان کے معنی بھی غازی کی امداد بصورت مال یا سواری سے کرنے کے ہیں۔فقہاء نے ایسے معاوضہ کو پسند نہیں کیا۔کیونکہ اس سے دولت مند افراد جہاد کے حکم کی تعمیل سے بچ سکتے ہیں اور قوم میں کسل و غفلت پیدا ہوسکتی ہے۔امام مالک ایسی اعانت کو مکروہ سمجھتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایسی امداد صرف اس صورت میں جائز ہے کہ بیت المال خالی ہو اور بیت المال سے غازیوں کو تیار نہ کیا جا سکتا ہو۔ان کے نزدیک غازی ایک دوسرے کی مالی مدد بصورت تعاون تو کر سکتے ہیں مگر بطور بدل نہیں۔امام شافعی نے سلطان الوقت کو مستثنی کیا ہے اور باقیوں کے لئے ایسی امداد جو بدل کے طریق پر ہو قطعی طور پر ناجائز قرار دی ہے۔ان کے نزدیک جہاد بالسیف فرض کفایہ ہے۔اگر کوئی فرد کسی معذوری کی وجہ سے فرضِ کفایہ ادا نہ کر سکے تو وہ اس سے ساقط ہو گا۔( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۵۰) (عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحه ۲۳۰ ۲۳۱) اس فقہی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کر کے عنوانِ باب ( نمبر ۱۱۹) میں چار حوالے دیئے گئے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ بیت المال کی طرف سے غازیوں کی مالی امداد اس طور پر ہوسکتی ہے کہ اگر کوئی غازی مدد لے کر جہاد میں شامل نہ ہوگا تو وہ مال واپس ہوگا۔مگر افراد کی طرف سے جو اعانت کسی کو دی جائے وہ محض بطور تعاون ہوگی۔یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کو رقم دے کر اپنی جگہ جہاد میں بھیجوا دیا جائے اور خود جہاد سے پیچھے رہ جائے۔مجاہد کے حوالہ کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، غزوۃ فتح مکہ روایت نمبر ۴۳۱۹۔اور حضرت عمرؓ ہے طاؤس اور مجاہدے کے اقوال ابن ابی شیبہ سے منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۱۵۱) (عمدۃ القاری جز ۴۰ صفحہ ۲۳۱) روایات نمبر ۲۹۷۱،۲۹۷۰ کی صورت امداد کی تھی نہ معاوضہ جہاد۔روایت نمبر۲۹۷۲ کے مضمون کے لیے کتاب الجہاد باب ۴۳ ، ۵ ، ۲۱،۷ بھی ملاحظہ کریں۔امام ثوری کے نزدیک مزدور جب تک عملا لڑائی میں شریک نہ ہو حصہ غنیمت کا حق دار نہیں۔مالکیوں اور حنفیوں کے مصنف ابن أبي شيبة، كتاب السير، باب ما قالوا في الرجل يأخذ المال للجهاد ولا يخرج) کے مصنف ابن أبي شيبة، كتاب السير، باب الرجل يحمل على الشبئ في سبيل الله)