صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 324
صحيح البخاری جلده ۳۲۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَقُتِلْتُ ثُمَّ أَحْيَيْتُ ثُمَّ قُتِلْتُ ثُمَّ اور مجھ پر یہ بھی گراں گزرتا ہے کہ وہ (یعنی صحابہ ) جہاد أُخْبِيْتُ۔کے وقت میرے پیچھے رہ جائیں اور میری تو خواہش ہے کاش میں اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں۔پھر زندہ کیا جاؤں۔پھر مارا جاؤں۔پھر زندہ کیا جاؤں۔اطرافه: ۳۶، ۲۷۸۷ ،۲۷۹۷، ۳۱۲۳، ۷۲۲۶، ٧٢۲۷، ٧٤٥٧، ٧٤٦٣۔بَاب ۱۲۰ : الْأَجِيْرُ جو اُجرت پر ( جہاد میں ) شریک ہو وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ سِيْرِيْنَ يُقْسَمُ اور حسن اور ابن سیرین نے کہا: ایسے مزدور کو غنیمت لِلْأَجِيْرِ مِنَ الْمَغْنَمِ وَأَخَذَ عَطِيَّةُ بْنُ سے حصہ دیا جائے اور عطیہ بن قیس نے ایک گھوڑا قَيْسٍ فَرَسًا عَلَى النِّصْفِ فَبَلَغَ سَهُمُ اس شرط پر لیا کہ وہ غنیمت کے حصہ سے نصف اس الْفَرَسِ أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ فَأَخَذَ مِائَتَيْنِ کے مالک کو دیں گے تو اس گھوڑے کا کل حصہ چار سو وَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِائَتَيْنِ۔اشرفیاں ہوا۔انہوں نے خود دوسو اشرفیاں لیں اور گھوڑے کے مالک کو دوسو دیں۔۲۹۷۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۹۷۳: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ کیا، کہا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء بن ابی رباح ) سے، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ عطاء نے صفوان بن یعلی سے صفوان نے اپنے باپ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ (حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں غَزْوَةَ تَبُوكَ فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ تبوک کی جنگ میں گیا۔میں نے ایک جوان اونٹ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي فَاسْتَأْجَرْتُ (دوسرے غازیوں کی ) سواری کیلئے دیا اور میرے نزدیک یہ عمل میرے تمام اعمال میں سے سب سے زیادہ أَجِيْرًا فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا قابل اعتماد تھا۔میں نے ایک مزدور کو رکھ لیا۔وہ ایک الْآخَرَ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيْهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ شخص سے لڑ پڑا۔تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی