صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 322
صحيح البخاری جلده - ۳۲۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ۱۱۹ : اَلْجَعَائِلُ وَالْحُمْلَانُ فِي السَّبِيْلِ اللہ کی راہ میں اپنی جگہ کسی کو اجرت دے کر اپنی طرف سے بھیجنا اور سواری کا جانور دینا وَقَالَ مُجَاهِدٌ قُلْتُ لِابْن عُمَرَ اور مجاہد کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمر سے کہا کہ الْغَزْوَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُعِيْنَكَ میں جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا: بِطَائِفَةٍ مِّنْ مَالِي قُلْتُ أَوْسَعَ اللهُ عَلَيَّ مِیں چاہتا ہوں کہ میں اپنے مال سے تمہاری کچھ مدد کروں۔میں نے کہا: اللہ نے مجھے بہت مال دیا ہے۔انہوں نے کہا: تمہاری دولت تمہارے لئے ہے۔قَالَ إِنَّ غِنَاكَ لَكَ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ مَّالِي فِي هَذَا الْوَجْهِ۔میں چاہتا ہوں کہ میرے مال سے بھی اس راہ میں کچھ وَقَالَ عُمَرُ إِنَّ نَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا خرچ ہو۔اور حضرت عمرؓ نے کہا: کچھ لوگ بیت المال الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا ثُمَّ لَا يُجَاهِدُونَ سے اس لئے لیتے ہیں کہ جہاد کریں۔پھر وہ جہاد نہیں فَمَنْ فَعَلَهُ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى کرتے۔پس جو ایسا کرے تو ہمیں وہ مال جو اس نے نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ وَقَالَ طَاوُسٌ لیا ہے اس سے واپس لینے کا پورا حق ہے۔اور طاؤس اور مجاہد نے کہا: اگر تمہیں کچھ مال دیا جائے کہ تم اس وَمُجَاهِدٌ إِذَا دُفِعَ إِلَيْكَ شَيْءٌ تَخْرُجُ کے ذریعہ تیاری کر کے اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو بِهِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ تو پھر اس مال سے تم جو چاہو کر و۔خواہ اپنے گھر والوں وَضَعْهُ عِنْدَ أَهْلِكَ۔کے پاس ہی چھوڑ جاؤ۔۲۹۷۰ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۲۹۷۰: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے مالک سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَقَالَ زَيْدٌ سَمِعْتُ بن انس سے سنا۔انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا أَبِي يَقُوْلُ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تو زید نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔کہتے تھے: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ حضرت عمر بن خطاب ) رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله اللہ کی راہ میں ایک گھوڑ اسواری کے لئے دیا۔پھر میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيْهِ فَقَالَ لَا تَشْتَرِهِ نے اسے بکتے ہوئے دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم