صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 321 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 321

صحيح البخاری جلده ۳۲۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير روایت نمبر ۲۹۶۴ میں تعب کا لفظ آیا ہے۔تعب وہ تالاب ہوتا ہے جو سایہ دار درخت کے نیچے ہو اور جس کا پانی صاف اور شفاف اور ٹھنڈا ہو۔اس طرح شعب اس گڑھے کو بھی کہتے ہیں جو پہاڑ کے دامن میں ہو اور جس کا پانی صاف وخنک ہو۔یہ مثال زمانہ نبوی کی حالت اور مابعد کی حالت کا فرق ظاہر کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ط باب ۱۱۳ کے عنوان میں آیت محولہ یہ ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُوْنَكَ أُولئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ ، فَإِذَا اسْتَأْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ (النور: ۱۳) یعنی صرف وہی لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب کسی قومی کام کے لئے اس (رسول) کے پاس بیٹھے ہوں تو اُٹھ کر نہیں جاتے جب تک اس کی اجازت نہ لے لیں۔وہ لوگ جو کہ اجازت لے کر جاتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔پس جب وہ اپنے کسی اہم کام کے لئے اجازت لیں تو ان میں سے جن کے متعلق تو چاہے انہیں اجازت دے دے اور اللہ سے ان کے لئے بخشش مانگ اور اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔أمْرِ جَامِع : اس سے مراد اجتماعی کام ہیں کہ جب افراد امام یا امیر کی ہدایت کے تحت کسی مشتر کہ امر کے لئے اکٹھے ہوں تو بغیر اجازت غیر حاضر ہونا یا حاضر ہو کر بغیر اجازت چلے جانا درست نہیں اور کسی عذر کی وجہ سے غیر حاضری یا واپسی بھی ایک قسم کی کوتاہی ہے اور اس طرح ثواب کے موقع سے محرومی ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ میں تلافی کے لئے استغفار کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ حکم اپنی ذات میں کتنا مکمل اور یہ ارشاد کتنا مفید اور پر حکمت ہے۔روایت نمبر ۲۹۶۷ کئی ابواب کے تحت گزر چکی ہے۔اس سے یہ سمجھایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معمولی امر میں بھی کسی صحابی کا پیچھے رہنا پسند نہیں فرمایا۔مصالح اجتماعیہ سے تعلق رکھنے والے امور بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔باب ۱۱۶ تا ۱۸ اسے بتایا ہے کہ امام سے جس قدر اعلیٰ درجہ کا نمونہ ظاہر ہوگا مقتدیوں میں اسی قدر قوت نشاط عمل اور جوش قربانی پیدا ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا ایک بڑا سبب یہ امر بھی تھا کہ ہر حکم میں آپ کا اسوہ حسنہ مشعل راہ تھا۔آپ نے صحابہ کرام کو اسی اسوۂ حسنہ سے اپنے رنگ میں رنگین کر دیا تھا۔چنانچہ مذکورہ بالا ابواب سے پہلے باب ۱۱۴ قائم کر کے اختصار سے حضرت جابر والے واقعہ کا حوالہ اسی غرض سے دیا گیا ہے۔واقعہ مذکورہ روایت نمبر ۲۹۶۸، ۲۹۶۰ اس زمانہ کا ہے جب کفار مکہ مدینہ پر حملہ کی دھمکیاں دے رہے تھے اور حالات سخت تشویشناک تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راتیں بیداری میں گزرتیں۔