صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 320
صحيح البخاری جلده (۲) تکلیف مالا بطاق سے اجتناب ۔ ۳۲۰ (٤) دعا سے استقامت ۔ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير (0) کوچ کے لئے مناسب وقت کا انتخاب ۔ (۶) امام کی اجازت کے بغیر غیر حاضری سے ممانعت ۔ (۷) امام کی بیدار مغزی (۸) اس کا اسوہ حسنہ (۹) اس کی مرکزی حیثیت کا نشان ( پرچم ) وغیرہ۔ امام کی اطاعت اور اس کی حفاظت کے تعلق میں صحابہ کرام کا فدا کارا نہ نمونہ اور قربانی کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب ۱۷، ۱۸۔ بیعت رضوان حدیبیہ میں لی گئی تھی جس کا مفصل ذکر کتاب المغازی باب ۳۵ میں آتا ہے۔ بیعت رضوان سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہیں : لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِم فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ، وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (الفتح: ۱۹-۲۰) (ترجمہ از تفسیر صغیر: اللہ مومنوں سے اس وقت بالکل خوش ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے اور اس نے اس ( ایمان ) کو جو ان کے دلوں میں تھا خوب جان لیا۔ (سو ) اس کے نتیجہ میں اس نے ان کے دلوں پر سکینت نازل کی اور ان کو ایک قریب میں آنے والی فتح بخشی اور بہت سی غنیمت کے مال بھی بخشے جن کو وہ قبضہ میں لا رہے تھے اور اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اسی بیعت رضوان کا ذکر ہے جو مقام حدیبیہ میں صحابہ کرام سے لی گئی تھی۔ جس کی تعمیل میں انہوں نے صدق و ثبات کا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان فتوحات سے انہیں سرفراز فرمایا - بَايَعَهُمُ عَلَى الْمَوْتِ ۔۔۔۔ روایت نمبر ۲۹۵۸ کے الفاظ میں تضاد نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ عنوان باب ۱۰۹ کے دونوں حوالوں سے حدیث نمبر ۲۹۶۰،۲۹۵۸ کا مفہوم واضح کیا گیا ہے کہ بیعت رضوان سے عزم و ثبات ، صبر و استقلال اور غایت درجہ فدائیت والی بیعت مراد ہے نہ کہ محض مرنے کا اقرار ۔ کیونکہ یہ توفی ذاتہ کوئی اچھا مقصد نہیں ہے۔ اس کی قیمت نفی اور صفر ہے۔ الرغم روایت نمبر ۲۹۵۹ میں واقعہ حرہ کا جو ذکر ہے اس سے مراد وہ لڑائی ہے جو ۶۳ ھ میں یزید بن معاویہ اور عبداللہ بن زبیر کے درمیان ہوئی۔ جب ثانی الذکر نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا اور وہ خلیفہ منتخب ہوئے تو اول الذکر نے ان پر چڑھائی کی۔ خونریز لڑائی میں ابن زبیر شہید ہوئے۔ یہ واقعہ تفصیل اسے سے اپنے اپنے موقع مو پر بیان کیا جائے گا۔ عبداللہ بن حنظلہ امیران امیر انصار تھے اور اس وقت بھی ابن زبیر کی طرف سے بیعت رضوان کی طرح بیعت لی گئی تھی۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۲۲۴) صلى الله عبداللہ بن زیدہ کو لڑائی سے انکار نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے ! بعد دوسری دفعہ بیعت رضوان کی ضرورت نہیں۔ روایت نمبر ۲۹۶۰ سے اس خیال کا اظہار کیا گیا ہے کہ بیعت دوبارہ بھی لی جاسکتی ہے۔ باب اا کا تعلق سخت احکام کی ممانعت اور اطاعت امیر سے ہے۔ روایت زیر باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا جواب اس ادب پر دلالت کرتا ہے جو امراء کی اطاعت کی نسبت صحابہ کرام کے دلوں میں تھا۔ یہ نہیں کہا کہ ایسے امیر جو طاقت سے بڑھ کر حکم دیں ان کی نہ مانو بلکہ یہ بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہماری اطاعت کا یہ حال تھا اور سائل کو تقوی اللہ کی نصیحت کی ہے۔