صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 14
صحيح البخاری جلده ۱۴ ۵۳ - كتاب الصلح يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ اِنکار کیا اور آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔جب يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا تک آپ نے اُن کے ساتھ یہ فیصلہ نہ کر لیا کہ آپ اس میں صرف تین دن رہیں گے۔جب وہ تحریر لکھنے الْكِتَابَ كَتَبُوْا : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ لگے تو (صحابہ نے ) لکھا: یہ وہ ( صلح نامہ ) ہے جس کی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بناء پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ہے۔وَسَلَّمَ۔فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَا فَلَوْ نَعْلَمُ انہوں نے کہا: ہم اس کو نہیں مانیں گے۔اگر ہم أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا مَنَعْنَاكَ لَكِنْ أَنْتَ جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ عَبْدِ اللهِ۔قَالَ أَنَا رَسُوْلُ روکتے بلکہ آپ کا نام محمد بن عبد اللہ ( لکھو۔) آپ اللهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثُمَّ قَالَ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی لِعَلِي: امْحُ رَسُول اللَّهِ۔قَالَ : لَا وَاللهِ ہوں۔پھر آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا : رسول اللہ کا لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ لفظ مٹادیں۔انہوں نے کہا: نہیں۔اللہ کی قسم ! میں مُحَمَّدُ اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ فَكَتَبَ نے وہ تحریر لی اور لکھا: یہ وہ ( صلح نامہ ) ہے جس کی بناء هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ پر محمد بن عبد اللہ نے فیصلہ کیا ہے کوئی ہتھیار مکہ کے لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ سَلَاحٌ إِلَّا فِي الْقِرَابِ اندر داخل نہیں ہوگا مگر وہی جو قراب میں داخل ہو وَأَنْ لَّا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ اور یہ کہ مکہ والوں میں سے کوئی شخص اگر کسی کے ساتھ أَنْ يَتَّبِعَهُ وَأَنْ لَّا يَمْنَعَ أَحَدًا مِّنْ جانا چاہے گا تو وہ اُسے نہیں لے جائے گا اور وہ اپنے أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيْمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا ساتھیوں میں سے کسی کو روکے گا نہیں، اگر وہ مکہ میں وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا: قُلْ رِہنا چاہے۔جب آپ مکہ میں داخل ہوئے اور میعاد گزرگئی تو (مشرک) حضرت علیؓ کے پاس آئے اور لِصَاحِبِكَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى کہنے لگے: اپنے ساتھی سے کہو کہ ہمارے یہاں سے الْأَجَلُ۔فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ چلا جائے، میعاد گزر چکی ہے۔نبی ﷺہ روانہ ہوگئے۔میعادگزرچکی وَسَلَّمَ فَتَبِعَتْهُمُ ابْنَةُ حَمْزَةَ يَا عَمَ يَا عَمَ حضرت حمزہ کی بیٹی ان کے پیچھے چل پڑی۔چا چا پکار فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ رہی تھی۔حضرت علیؓ نے لپک کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور