صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 319
صحيح البخاری جلده ٣١٩ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نے ہمیں بتایا۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بِالْمَدِينَةِ فَزَعْ فَرَكِبَ رَسُوْلُ اللهِ روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ مدینہ میں (ایک بار ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي گھبراہٹ ہوئی تو رسول اللہ اللہ حضرت ابوطلحہ کے طَلْحَةَ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِنْ گھوڑے پر سوار ہوئے اور پھر آپ نے فرمایا: ہم نے تو کچھ نہیں دیکھا اور اس گھوڑے کو تو ایک دریا پایا۔وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا۔اطرافه: ٢٦٢٧، ٢٨٢٠، ٢٨٥٧ ، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦ ، ٢٨٦٧ ، ٢٩٠٨، ٣٠٤٠،٢٩٦٩، ٦٢١٢،٦٠٣٣۔بَاب ۱۱۷: السُّرْعَةُ وَالرَّكْضُ فِي الْفَزَعِ تشویش کے وقت جلدی کرنا اور گھوڑے کو دوڑانا ٢٩٦٩: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلِ ٢٩٦٩۔فضل بن سہل نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ محمد نے ہمیں بتایا۔جریر بن حازم نے ہمیں خبر دی۔ابْنُ حَازِمٍ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْن انہوں نے محمد بن سیرین) سے، محمد بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَزِعَ النَّاسُ حضرت انس نے کہا: لوگ اچانک گھبرا اُٹھے تو رسول اللہ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے جو وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيْئًا ثُمَّ سُست رفتار تھا اور آپ اس کو ایڑ لگا کر دوڑ اتے اکیلے خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ فَرَكِبَ النَّاسُ ہی روانہ ہو گئے اور پھر لوگ بھی آپ کے پیچھے سوار ہوکر يَرْكُضُوْنَ خَلْفَهُ فَقَالَ لَمْ تُرَاعُوْا إِنَّهُ گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے گئے۔آپ نے فرمایا: ڈرو نہیں۔یہ گھوڑا تو ایک دریا ہے۔پھر اس دن کے لَبَحْرٌ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہ نکل سکا۔اطرافه : ٢٦٢٧، ٢٨٢٠ ، ٢٨٥٧ ، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦، ٢٨٦٧ ، ٢٩٠٨ ، ٢٩٦٨، ٣٠٤٠، ٦٠٣٣، ٦٢١٢۔باب ۱۱۸ : الْخُرُوْجُ فِي الْفَزَعِ وَحْدَهُ تشویش کے وقت اکیلے ہی نکل جانا تشريح : : امور کا ذکر ہے: (۱) مجاہدین کی طرف سے کامل اطاعت کا اظہار۔(۲) جنگ کی عدم خواہش و آرزو۔الْبَيْعَةُ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَّا يَفِرُّوا ان ابواب میں جہاد اور امامت سے متعلق مندرجہ ذیل