صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 317
صحیح البخاری جلده ۳۱۷ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ چلتا تھا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: اب تم اپنے اونٹ کو الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ فَقَالَ لِي كَيْفَ کیا دیکھتے ہو؟ کہتے تھے: میں نے کہا: اچھا ہے ۔ آپ تَرَى بَعِيْرَكَ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ کی برکت اس کو اس کو نصیب ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا: تو پھر کیا تم اس کو میرے پاس بیچتے ہو؟ کہتے تھے: میں نے أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيْعُنِيْهِ قَالَ شرم کی اور ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی پانی لانے فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَّنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ والا اونٹ نہ تھا۔ کہتے تھے : میں نے کہا جی ہاں۔ آپ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِعْنِيْهِ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ نے فرمایا: اچھا میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ چنانچہ میں عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ نے آپ کو وہ اونٹ قیمتا دے دیا اس شرط پر کہ مدینہ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ پہنچنے تک میں اس کی پیٹھ پر سواری کروں گا۔ کہتے تھے: (جب میں مدینہ کے قریب پہنچا تو میں نے کہا: إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي يا رسول اللہ میں نے ابھی شادی کی ہے۔ یہ کہ کر میں فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ { * حَتَّى نے جانے کی اجازت چاہی۔ آپ نے مجھے اجازت أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي دی۔ میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ کو چل پڑا۔ عَنِ الْبَعِيْرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ بِهِ جب مدینہ پہنچا تو میرے ماموں مجھے ملے اور انہوں نے اونٹ کی نسبت مجھ سے دریافت کیا۔ تو میں نے فَلَامَنِي قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِيْنَ مجھے ملامت کی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ جب میں اسْتَأْذَنْتُهُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيْبًا نے رسول الله ﷺ سے گھر جانے کی اجازت لی تھی تو فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ ثَيْبًا قَالَ فَهَلا آپ نے مجھے پوچھا کہ تم نے کنواری سے شادی کی ہے تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ يا يوه سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ تو آپ نے فرمایا: کنواری سے کیوں شادی نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے انہیں جو فیصلہ اس کے متعلق کر چکا تھا بتایا۔ انہوں نے الله علیہ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ والد فوت ہو گئے ہیں یا کہا کہ شہید ہو گئے اور میری فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ فَلَا چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں۔ میں نے ناپسند کیا کہ میں ان حمد یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۱۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔