صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 316
صحيح البخاری جلده ۳۱۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ۱۱۳ : اسْتِنْذَانُ الرَّجُلِ الْإِمَامَ کسی آدمی کا امام سے اجازت مانگنا لِقَوْلِهِ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مومن در حقیقت وہی ہیں جو آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوْا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب اس کے مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا رسول کے ساتھ سی ایسے امر میں ہوں جو جماعت سے تعلق رکھتا ہو تو اس وقت تک نہ جائیں جب تک آپ حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ سے اجازت نہ لے لیں۔ وہ لوگ جو اجازت لے کر يَسْتَأْذِنُونَكَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔ جاتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں (النور: ٦٣) پس جب وہ اپنے کسی اہم کام کیلئے تجھ سے اجازت لیں تو اُن میں سے جن کے متعلق تو چاہے انہیں اجازت دے دے اور اللہ سے ان کے لئے بخشش مانگ اور اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ ٢٩٦٧ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۹۶۷ : الحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مغیرہ سے مغیرہ نے ں الشَّعْبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله سعی سے بھی نے حضرت جابر بن عبداللہرضی اللہعنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کیلئے نکلا۔ حضرت جابر کہتے تھے رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ نبی ال پیچھے سے آکر صلى الله علية سے آکر مجھے مل گئے اور میں اپنے پانی قَالَ فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ لادنے والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک کر رہ چکا تھا اور اونٹ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ لَنَا قَدْ وہ چلتا ہی نہ تھا۔ تو آپ نے مجھے پوچھا تمہارے اونٹ أَعْيَا فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ فَقَالَ لِي مَا کو کیا ہوا؟ حضرت جابر کہتے تھے : میں نے کہا تھکا ماندہ صلى الله ہو کر رہ گیا ہے۔ کہتے تھے : رسول اللہ علیہ پیچھے ہو گئے لِبَعِيرِكَ قَالَ قُلْتُ أَعْيَا قَالَ فَتَخَلَّفَ اور آپ نے اسے ڈانٹا اور اس کیلئے دعا کی۔ پھر تو وہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمام اونٹوں کے آگے ہی رہا۔ ان کے آگے ہی آگے