صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 314 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 314

صحیح البخاری جلده ۳۱۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ۱۱۱ : عَزْمُ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ فِيْمَا يُطِيقُوْنَ امام کا لوگوں کو اس بات کا حکم دینا جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں ٢٩٦٤ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ۲۹۶۴ : عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جزیر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے منصور نے ابو وائل قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقَدْ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ ( بن أَتَانِي الْيَوْمَ رَجُلٌ فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ مسعود ) رضی اللہ عنہ کہتے تھے: آج میرے پاس ایک مَا دَرَيْتُ مَا أَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ يَعْزِمَ عَلَيْنَا فِي أَمْرٍ آدمی آیا اور اس نے مجھ سے ایک ایسی بات پوچھی کہ صلى الله جس کا جواب میں نہیں سمجھا کہ کیا دوں۔ وہ کہنے لگا: بتاؤ رَجُلًا مُؤْدِيًا نَّشِيْطًا يَخْرُجُ مَعَ أَمَرَائِنَا تو ایک شخص مضبوط جسم دلیر خوشی خوشی ہمارے افسروں فِي الْمَغَازِي فَيَعْزِمُ عَلَيْنَا فِي أَشْيَاءَ کے ساتھ جنگوں میں جاتا ہو اور وہ افسر ہمیں ایسی باتوں لَا تُحْصِيْهَا فَقُلْتُ لَهُ وَاللهِ لَا أَدْرِي کا حکم دے جن کی ہم طاقت نہیں رکھتے (تو کیا ایسے مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ افسر کا حکم مانا جائے؟ میں نے اس سے کہا: بخدا میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَسَى أَنْ لَّا نہیں جانتا کہ میں تجھے کیا جواب دوں ۔ مگر اتنا کہتا أَمْرٍ إِلَّا مَرَّةً حَتَّى نَفْعَلَهُ ہوں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے جو ساتھ ہوتے جو نہی آپ کسی بات کا قطعی حکم ہمیں دیتے تو ہم اسے فوراً بجالاتے اور وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَزَالَ بِخَيْرٍ مَا بات یہ ہے تم میں سے ہر ح ہر شخص ہمیشہ اچھی حالت میں اتَّقَى اللَّهَ وَإِذَا شَكٍّ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ رہے گا جب تک کہ وہ اللہ کا تقوی اختیار کرے گا اور سَأَلَ رَجُلًا فَشَفَاهُ مِنْهُ وَأَوْ شَكَ أَنْ اگر کوئی بات اس کے دل میں کھٹکے وہ کسی دوسرے شخص لَّا تَجِدُوهُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا سے پوچھ لے جو اس کی اس بات میں تسلی کر دے اور أَذْكُرُ مَا غَبَرَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا كَالتَّعْبِ عنقریب وہ وقت آتا ہے کہ تم پھر ایسا بھی نہ پاؤ گے اور شُرِبَ صَفْرُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ۔ اسی ذات کی قسم ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا سے جو زمانہ گزر گیا ہے میں یہی خیال کرتا ہوں کہ وہ اس سایہ دار ٹھنڈے جوہر کی طرح ہے جس کا صاف ستھرا پانی پی لیا ہو اور گندہ پانی رہ گیا ہو۔ اطرافه ٢۱۱۷، ٢٤٠٧، ٢٤١٤۔