صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 311 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 311

صحيح البخاری جلده ٣١١ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير اس فیصلے کی پابندی کرے۔افراد کو اپنی رائے پر عمل کرنے کی آزادی دینے سے نظم و نسق تباہ ہو جاتا ہے اور تفرقہ و انتشار پیدا ہونے سے شیرازہ قوم منتشر ہو جاتا ہے۔یہ باب سابقہ باب کی مزید تشریح ہے۔فَلَا سَمْعَ وَلَاطَاعَةَ: اس کا مفہوم ابن حجر نے ان الفاظ سے واضح کیا ہے: الْمُرَادُ نَفْيُّ الْحَقِيقَةِ الشَّرْعِيَّةِ لَا الْوُجُودِيَّةِ - ( فتح البارىی ، شرح باب ۱۰۸، جزء ۶ صفحه ۱۴۰) غیر تقویٰ والی بات میں امام کی اطاعت از روئے حقیقت شرعیہ نہ ہوگی۔یعنی گو بظاہر تو وہ اطاعت ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے ایسی اطاعت اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی وزن نہیں رکھتی اور ان کے نزدیک امام کو ڈھال اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کی تدبیر کرتا اور افراد کو ایک دوسرے کی تعدی سے بچاتا ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک امام سے مراد كُلُّ قَائِمٍ بِأَمُورِ النَّاسِ ہے۔یعنی ہر وہ شخص جو لوگوں کی سیاست کا ذمہ دار ہو۔(فتح الباری ، شرح باب ۱۰۹، جز ء۶ صفحه ۱۳۴۱) بَاب ۱۱۰ : الْبَيْعَةُ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَّا يَفِرُّوا جنگ میں یہ اقرار لینا کہ بھاگیں گے نہیں وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى الْمَوْتِ لِقَوْلِ اور بعض نے کہا: موت پر اقرار لینا۔کیونکہ اللہ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ عزو جل فرماتا ہے: اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ وہ تجھ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔الشَّجَرَةِ۔(الفتح: ١٩) ٢٩٥٨ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۹۵۸ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَّافِعِ قَالَ قَالَ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے روایت کی ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجَعْنَا مِنَ کہ انہوں نے کہا: (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے صلح حدیبیہ کے دوسرے سال ہم دوبارہ گئے الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ تو ہم میں سے دو آدمیوں نے بھی متفق ہو کر یہ پتہ نہ دیا کہ عَلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعْنَا تَحْتَهَا یہی وہ درخت ہے جس کے نیچے ہم نے بیعت رضوان وہ كَانَتْ رَحْمَةً مِّنَ اللَّهِ فَسَأَلْنَا نَافِعًا کی تھی۔یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔ہم نے نافع عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان سے کس بات پر قَالَ لَا بَلْ بَايَعَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ۔بیعت لی، کیا موت پر ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے ان سے ثابت قدم رہنے کی بیعت لی تھی۔