صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 310 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 310

صحيح البخاری جلده ٣١٠ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ۱۰۹ : يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الْإِمَامِ وَيُتَّقَى بِهِ امام کے آگے پیچھے ہو کر لڑنا اور اس کو اپنی سپر بنانا ٢٩٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۹۵۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ أَنَّ الْأَعْرَجَ نے ہمیں خبر دی۔ابوزناد نے ہمیں بتایا کہ اعرج حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله نے ان سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ عليه وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: ہم (دنیا میں ) سب سے پیچھے آنے والے ہیں۔لیکن سب سے السَّابِقُوْنَ آگے بڑھنے والے ہیں۔اطرافه: ۲۳۸ ٨٧٦ ٨٩٦ ٣٤٨٦، ٦٦٢٤، ٦٨٨٧، 7036، ٧٤٩٥۔٢٩٥٧ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ :۲۹۵۷ اور اسی سند سے مروی ہے کہ ( آپ نے أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اللَّهَ وَمَنْ تُطِعِ الْأَمِيْرَ فَقَدْ اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ فَقَدْ عَصَى أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيْرَ فَقَدْ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی بات مانی اس نے عَصَانِي وَإِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ میری ہی اطاعت کی۔جس نے امیر کی نافرمانی کی تو اس نے گویا میری ہی نافرمانی کی۔امام تو ایک وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ ڈھال ہے۔جس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔پس اگر اس نے تقوی اللہ کا حکم دیا اور انصاف کیا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور اگر اس نے کچھ اور کیا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ۔طرفه: ۷۱۳۷۔تشریح: إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ : یہ جملہ جوامع الکلم میں سے ہے اور منصب امام کی اہمیت پر دال ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ جنگ ہو یا امن، امام کی اطاعت بہر کیف ضروری ہے اور اسی اطاعت سے قوم محفوظ رہ سکتی ہے۔وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ خواہ کوئی فرد یہ بھی سمجھے کہ امام کا فیصلہ کسی ایک امر میں درست نہیں تو بھی اس کا فرض ہے کہ