صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 13 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 13

صحيح البخاری جلده - ۵۳ - کتاب الصلح إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ ابو اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سناء کہتے صَالَحَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَّةِ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ سے صلح کی تو حضرت علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بَيْنَهُمْ نے اُن کے درمیان ایک تحریرلکھی اور (اس میں آپ كِتَابًا فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ فَقَالَ کا نام) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) لکھا۔الْمُشْرِكُونَ: لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ نہ لکھو۔اگر آپ رسول اللَّهِ لَوْ كُنْتَ رَسُوْلًا لَمْ نُقَاتِلْكَ۔فَقَالَ ہوتے تو ہم آپ سے نہ لڑتے۔آپ نے حضرت علی لِعَلِي: امْحُهُ۔فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَنَا بِالَّذِي سے کہا: اسے مٹادو۔حضرت علیؓ نے کہا: میں وہ أَمْحَاهُ۔فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ (شخص) نہیں ہوں گا جو اسے مٹائے۔پھر رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اپنے ہاتھ سے مٹادیا اور اُن يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا ے اس شرط پر صلح کر لی کہ آپ اور آپ کے صحابہ يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السلاح تین دن ( مکہ میں ) رہیں گے اور وہ اس میں ہتھیار فَسَأَلُوْهُ: مَا جُلُبَّانُ السّلَاحِ؟ فَقَالَ: جُلبان میں رکھ کر داخل ہوں گے۔لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ یہ جلبان کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ الْقِرَابُ بِمَا فِيْهِ۔غلاف جس میں تلوار مع میان رکھی جاتی ہے۔اطرافه: ١٧٨١، ۱۸٤٤، ۲۶۹۹، ٢٧۷۰۰، ٣١٨٤، ٤٢٥١۔٢٦٩٩: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۲۶۹۹: عبد اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مُوْسَى عَنْ إِسْرَائِيْلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ اِسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابو اسحاق عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَّدَعُوهُ (ماه) ذیقعدہ میں عمرے کا ارادہ کیا۔اہل مکہ نے