صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 309
صحيح البخاری جلده ۳۰۹ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ میں بِهَا إِلَّا اللَّهُ فَإِنْ أَخَذْتُمُوْهُمَا فَاقْتُلُوْهُمَا ۔ جلا دینا ۔ آگ سے صرف اللہ سزا دیتا ہے۔ اس لئے طرفه: ٣٠١٦۔ اگر تم انہیں پا جاؤ تو ان کو قتل کر دو۔ رخصت با تشریح : التوديع: الوداع کے معنی رقص کرنا یا رخ کیا امام کا ان کو اس اف امی کو الوداع کہنا جانا۔ ٹیم مسافر یا مساف یا اجازت لینا۔ اس لفظ کے دونوں مفہوم ہیں۔ روایت زیر باب سے دوسری صورت کا ذکر ہے اور اس پر مسافر کو الوداع کرنے کا قیاس کیا گیا ہے۔ یہ باب بطور فصل ہے اور اس کے بعد باب ۱۰۸ اسے باب ۱۱۸ تک امامت سے متعلق ابواب ہیں۔ جہاد کیلئے امام کا وجود پہلی اور اہم شرط ہے۔ اس کے بغیر فریضہ جہاد ادا نہیں ہو سکتا۔ جہاد کے لئے امام کا وجود اس طرح ضروری ہے جس طرح نماز فریضہ کی ادائیگی کے لئے ۔ یہی مفہوم ہے حدیث الْإِمَامُ جُنَّةً يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ (روایت ۲۹۵۷) کا۔ بَاب ۱۰۸ : اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ لِلْإِمَامِ امام کی بات سننا اور اطاعت کرنا ٢٩٥٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۲۹۵۵ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے ہمیں عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری ) سے روایت کی ۔ کہا: ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ مجھ سے نافع نے۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّد سے حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (دوسری سند ) اور محمد بن صباح نے بھی ہمیں بتایا ابْنُ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ زَكَرِيَّاءَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ فىاللہ عنہما سے حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّمْعُ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بات سننا اور اطاعت وَالطَّاعَةُ حَقٌّ مَّا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا کرنا اس وقت تک ضروری ہے جب تک کہ احکام الہی أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ۔ کی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر احکام الہی کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا چاہیے اور نہ اطاعت کرنا۔ طرفه: ٧١٤٤